بدھ, فروری ۴, ۲۰۲۶
6.9 C
Srinagar

امت شاہ کے تین روزہ دورے سے قبل جموں و کشمیر میں ہائی الرٹ، جموں اور سری نگر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات

سری نگر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے تین روزہ دورے سے قبل جموں و کشمیر بھر میں سکیورٹی کو انتہائی سخت کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ کے اس اہم دورے کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو قبل از وقت ناکام بنایا جا سکے۔

امت شاہ کے دورے کا آغاز جمعرات سے ہونے جا رہا ہے جس میں وہ جموں، ادھم پور، سانبہ کے سرحدی علاقوں اور سری نگر میں کئی اہم مقامات کا دورہ کریں گے اور اعلیٰ سطحی میٹنگوں کی صدارت بھی کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ جمعرات کی شام جموں پہنچیں گے جہاں وہ ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ کو جموں کے سرحدی علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشن کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم کی جائے گی۔
جموں میں انتظامیہ نے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ خاص طور پر نگروٹہ، گاندھی نگر، بس اسٹینڈ، اور سٹی چوک کے علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کی گشت اور چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔ ہائی ویز پر جگہ جگہ کھوجی کتے، جدید اسکینر، گاڑیوں کے نیچے معائنہ کرنے والے آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ٹول پلازوں پر صف در صف کھڑی فورسز ہر گاڑی کو روکتے ہوئے مسافروں کی تفصیلی شناختی تصدیق کر رہی ہیں۔

دوسری جانب سری نگر میں بھی چپے چپے پر سیکورٹی کی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جو ہر آنے جانے والے کو روک کر ان کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کر رہے ہیں۔سری نگر میں موجود ہاؤس بوٹس، شکارے، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کی بھی خصوصی تلاشی لی گئی ہے۔ واٹر پولیس نے جھیل کے اندر سے باہر تک مکمل گشت کیا۔

سرینگر ایئرپورٹ، جموں ایئرپورٹ، اور ائیر فورس اسٹیشنوں کے اطراف سیکیورٹی کو ‘تھری ٹائر’ سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے۔ خصوصی انسپیکشن ٹیمیں مسافروں کے دستی سامان اور کارگو کی دوہری جانچ کا عمل انجام دے رہی ہیں۔ تجارتی طیاروں کی پروازوں میں بھی اضافی پروٹوکول نافذ کیے گئے ہیں۔

ادھم پور اور سانبہ میں فوج نے گشت کو دوگنا کر دیا ہے۔ بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے ساتھ اضافی لائٹنگ، تھرمل امیجنگ کیمروں اور پیٹرولنگ سسٹم کا نفاذ کر دیا ہے۔ رات کے اوقات میں آئی آر نیٹ ورک کے ذریعے ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ ممکنہ طور پر سرحدی چوکیوں کا جائزہ بھی لیں گے، اس لیے متعلقہ علاقوں میں نفری تعینات ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل نگرانی کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وزیر داخلہ کے دورے کے دوران معمولات زندگی میں بلاوجہ رکاوٹ نہ آئے لیکن سیکورٹی پروٹوکول سختی سے نافذ کیا جائے۔ سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ چیکنگ کے دوران ٹریفک جام نہ ہو۔

فورسز کے مطابق یہ اقدامات محض احتیاطی نوعیت کے ہیں اور وزیر داخلہ کے دورے کی حساسیت کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img