بدھ, فروری ۴, ۲۰۲۶
6.9 C
Srinagar

’’معاف کرنا، پاپا۔ کوریا ہماری زندگی ہے…‘‘: تین بہنوں کا دل دہلا دینے والا ڈائری نوٹ، کورین گیمز کے ساتھ المناک جنون کا انکشاف، جس نے خاندان کو آنسوؤں میں مبتلا کر دیا

اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں تین کم عمر بہنوں نے ایک رہائشی عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ بچیوں کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ واقعہ ایک آن لائن ٹاسک بیسڈ گیم کے اثر کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس میں مبینہ طور پر آخری ہدف ’’خودکشی‘‘ درج تھا۔

والد کے مطابق، فارنسک حکام نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ بچیوں کے موبائل فونز میں موجود ہدایات سے پتا چلتا ہے کہ یہ گیم ایک خطرناک انداز میں انہیں ذہنی طور پر قابو کر رہی تھی۔

  • والد کا دعویٰ : بچیاں ڈھائی سال سے گیم کھیل رہی تھیں

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غمزدہ والد نے کہا :’’وہ تقریباً ڈھائی سال سے یہ گیم کھیل رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ وہ گھر والوں سے کٹتی چلی گئیں۔‘‘

ان کے مطابق تینوں بہنیں جن کی عمریں 15، 14 اور 11 سال تھیں، زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں موبائل فون کے ساتھ بند رہتی تھیں اور جب بھی کوئی گھر والا اندر آتا تو وہ فوراً فون چھپا دیتی تھیں۔

گیم میں ’’انسٹرکٹر‘‘ اور احکامات کی پابندی

والد نے مزید بتایا کہ اس گیم میں ایک شخص ’’انسٹرکٹر‘‘ کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ دوسرے شرکاء کو اس کے احکامات پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور تفتیشی حکام نے بتایا کہ موبائل فون میں موجود آخری ٹاسک کے طور پر خودکشی درج تھی۔

’’کوریَن ہماری زندگی ہے‘‘۔۔ والد کا دردناک بیان

والد نے روتے ہوئے بتایا کہ بچیاں اکثر کہتی تھیں :’’پاپا، ہم کوریَن کو نہیں چھوڑ سکتے۔ کوریَن ہماری زندگی ہے، سب کچھ ہے۔ اگر آپ نے ہمیں اس سے الگ کیا تو ہم جان دے دیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ انہوں نے بچیوں کا سوسائیڈ نوٹ دیکھا ہے جو انتہائی دل دہلا دینے والا ہے۔والد نے تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں اور گیمنگ عادات پر سخت نظر رکھیں۔

واقعے کی رات کیا ہوا؟

والد کے مطابق حادثے کی رات وہ اور ان کی اہلیہ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔ رات تقریباً 1:45 بجے تینوں بچیاں پانی پینے کے بہانے باہر نکلیں۔

انہوں نے بتایا :’’ان کے ہاتھ میں موبائل تھے۔ انہوں نے فون پیچھے پھینکے اور پھر چھلانگ لگا دی۔‘‘بعد میں پولیس نے جائے وقوعہ سے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔دو سال سے اسکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا

والد نے پولیس کو بتایا کہ بچیاں گزشتہ دو سال سے اسکول نہیں جا رہی تھیں اور مسلسل تنہائی میں موبائل استعمال کرتی تھیں۔یہ پہلو بھی تفتیش میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

سوسائیڈ نوٹ برآمد

پولیس نے بچیوں کے گھر سے ایک سوسائیڈ نوٹ بھی برآمد کیا ہے۔ کمرے میں لکھی چند تحریریں یہ تھیں :’’میں بہت اکیلی ہوں‘‘’’میرا دل ٹوٹ گیا ہے‘‘’’مجھے معاف کر دینا پاپا‘‘ایک بہن نے لکھا کہ ڈائری میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب سچ ہے۔

پولیس کا بیان

اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اتل کمار سنگھ نے بتایا :’’پولیس کو تقریباً 2:15 بجے اطلاع ملی کہ تین لڑکیوں نے نویں منزل سے چھلانگ لگائی ہے۔‘‘پولیس موقع پر پہنچی اور زخمی حالت میں بچیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں آن لائن ٹاسک بیسڈ گیمز بچوں اور نوجوانوں کو نفسیاتی طور پر متاثر کر کے خطرناک اقدامات کی طرف دھکیلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے موبائل استعمال، آن لائن روابط اور ذہنی حالت پر مسلسل نظر رکھیں۔

خبر کی تفصیل :میڈیا رپورٹس

Popular Categories

spot_imgspot_img