جموں: جموں و کشمیر اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر نے بدھ کو قائد حزب اختلاف کے (ایل او پی) سنیل شرما کے پیر پنجال کے متعلق بیان پر ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔
بتادیں کہ ایل او پی سنیل شرما نے ایک پرائیویٹ چینل کے ساتھ انٹریو میں کہا کہ ‘پیر پنچال’ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
وقفہ سوالات کے اختتام پر کچھ ہی دیر میں ہنگامہ شروع ہوا جب کانگریس کے رکن اسمبلی افتخار احمد نے ایک پورٹل کو انٹرویو کے دوران ریمارکس پر بی جے پی لیڈر سنیل شرما سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی سنیل بھاردواج نے کہا: ‘ہم "ایک بھارت سرشٹھ بھارت” میں یقین رکھتے ہیں، ایسے مدعے اٹھا کر وہ لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو در پیش مشکلات کو نہ اٹھایا جائے’۔
کئی قانون ساز بشمول آزاد اورف نیشنل کانفرنس کے ارکین کانگریس کے رکن اسمبلی کے ساتھ اس مطالبے کو اٹھانے میں شامل ہوئے، جس کی بی جے پی قانون سازوں نے سخت مخالفت کی۔سپیکر راتھر نے ناراض ارکان اسمبلی کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان میں سے کئی نے ایوان کے ویل کی طرف جانے کی کوشش کی اور آمنے سامنے آگئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کردی۔
اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی نے کہا کہ جب تک ایل او پی معافی نہیں مانگتے، وہ ایوان کو چلنے نہیں دیں گے۔انہوں نے پونچھ اور راجپوری اضلاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا” ‘ایل او پی نے پیر پنجال کے لوگوں کی بے عزتی کی ہے’۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی؛ ’انقلاب زندہ باد‘ اور ’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا
جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں اس وقت شورشرابے کے مناظر دیکھنے کو ملے جب ایوان میں اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے اراکین آمنے سامنے آ گئے اور یکے بعد دیگرے نعرے بازی سے ماحول خاصا کشیدہ ہوگیا۔ اپوزیشن بینچوں سے زور دار انداز میں ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے، جبکہ بی جے پی اراکین نے اسی جوش کے ساتھ ’بھارت ماتا کی جئے‘ کہہ کر جواب دیا، جس سے ایوان شور و غوغا کا مرکز بن گیا۔
ایوان میں یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب پیر پنچال کے ممبرانِ اسمبلی نے ایوان میں دیے گئے ایک ریمارک پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی سے قبل معافی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج شدت اختیار کرتا گیا اور نوبت نعرے بازی تک جا پہنچی، جس نے کارروائی کو مکمل طور پر متاثر کیا۔
اسپیکر نے متعدد بار دونوں جانب کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کو چلنے دیں، تاہم جذباتی ماحول میں کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ اراکین کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی گرمی اور نعرے بازی کے باعث کارروائی کو بار بار روکنا پڑا۔





