جموں،: جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور کے بسنت گڑھ علاقے میں جاری مسلح تصادم دوسرے روز بھی شدت کے ساتھ جاری ہے، جہاں سیکورٹی فورسز نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اُن دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا جو ایک غار میں مورچہ زن ہوکر فورسز پر فائرنگ کر رہے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تصادم منگل کی شام اُس وقت شروع ہوا تھا جب خفیہ اطلاع ملنے پر فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔
بدھ کی صبح آپریشن نے اُس وقت نیا رخ اختیار کیا جب فضائی نگرانی کرنے والے ڈرونز نے غار کے دہانے سے فائرنگ کی واضح فوٹیج حاصل کی، جس کے بعد فورسز نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ مزید سخت کردیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈرون ویڈیوز نے نہ صرف دہشت گردوں کی صحیح لوکیشن کی نشاندہی کی بلکہ اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایک سے زیادہ شدت پسند غار کے اندر موجود ہوسکتے ہیں۔
فورسز کی جانب سے اس انٹیلی جنس کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے اہلکاروں کی جانوں کو لاحق خطرات کم ہوئے ہیں۔مشترکہ آپریشن میں شامل انڈین آرمی اور جموں و کشمیر پولیس نے پورے علاقے میں سخت گھیراؤ قائم کر رکھا ہے، جبکہ اضافی دستے بھی حساس مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں تاکہ شدت پسندوں کے کسی بھی ممکنہ فرار کو روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق غار میں موجود شدت پسند وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے ہیں، جس کا جواب فورسز انتہائی سوچ سمجھ کر دے رہی ہیں تاکہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔ آپریشن میں شامل ایک افسر نے بتایا کہ ’ڈرونز نے ہمیں نہ صرف فائر کی سمت کی نشاندہی کی بلکہ غار کی ساخت اور اس کے اطراف کے راستوں کی شناخت میں بھی مدد ملی ہے، جس کی بنیاد پر ہم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔‘
ابھی تک کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے، تاہم فورسز نے واضح کیا ہے کہ آپریشن احتیاط کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے کیونکہ امکان ہے کہ مزید دہشت گرد بھی علاقے میں چھپے ہو سکتے ہیں۔ ۔
پولیس کے مطابق علاقے میں تمام داخلی اور خارجی راستوں پر کڑی نگرانی رکھی گئی ہے جبکہ آپریشن کو ہر وقت فضائی نگرانی کی مدد حاصل ہے۔ فورسز اس کوشش میں ہیں کہ غیر ضروری خطرہ مول لیے بغیر دہشت گردوں کو گھیر کر ان کی مزاحمت ختم کی جائے۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک فائرنگ کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری تھا اور آپریشن میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مزید تفصیلات آپریشن مکمل ہونے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔





