جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں دیے گئے بعض ریمارکس نے پیر پنچال کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ بدھ کو اس خطے سے تعلق رکھنے والے متعدد ایم ایل ایز نے ایوان کے باہر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عوام کی توہین برداشت نہیں کریں گے اور متعلقہ ریمارکس پر باضابطہ معافی تک اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پیر پنچال سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے اسمبلی کے باہر نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایوان میں کیے گئے متنازعہ ریمارکس کی وضاحت اور معافی فوری طور پر پیش کی جائے۔ اراکینِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ یہ ریمارکس خطے کے عوام کی تضحیک کے مترادف ہیں اور وہ اپنی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔
احتجاج میں شامل ممبران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری اقدار کے احترام کے قائل ہیں، تاہم اگر ایوان میں عوامی مینڈیٹ رکھنے والے نمائندوں کی بے توقیری کی جائے تو وہ خاموش نہیں رہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر پنچال کے عوام نے ان پر اعتماد کر کے انہیں ایوان تک پہنچایا ہے، اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خطے کی عزت کا ہر قیمت پر دفاع کریں۔
انہوں نے اسپیکر اسمبلی اور حکومتی بینچوں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری اقدام کیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی اراکین ایوان کی کارروائی میں بھرپور رکاوٹ ڈالنے پر مجبور ہوں گے۔ اراکین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر بروقت معافی نہ مانگی گئی تو وہ احتجاج کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسمبلی میں ایک رکن کی جانب سے دیے گئے ریمارکس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی، جس کے بعد آج یہ احتجاج سامنے آیا ہے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ اس تنازعے پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری کر سکتا ہے۔





