جموں: جموں پولیس نے جعلی کشمیر بلیو سیفائر فروخت کرنے کے نام پر تین کروڑ روپیے کی دھوکہ دہی اور فراڈ کے ایک ہائی پروفائل کیس میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔پولیس کے مطابق اس کیس میں جموں وکشمیر پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت 6 ملزمان شامل ہیں جن پر حیدر آباد کے ایک تاجر سے جعلی کشمیر بلیو سیفائر فروخت کرنے کے بہانے تین کروڑ روپیے کی خطیر رقم ہتھیانے کا الزام ہے۔
ملزموں میں محمد ریاض ولد رحیم علی ساکن گردن بالا راجوری حال چنور جموں، محمد تاج خان ولد حاجی جمہ خان ساکن سرنکوٹ پونچھ حال ترکوٹہ نگر جموں، شوکت حسین ولد رحیم علی ساکن گردن بالا راجوری، محمد شفیع ولد عبداللہ ساکن بھدرواہ ڈوڈہ حال بٹھنڈی جموں، کلویندر سنگھ ولد بچھن سنگھ ساکن وجے پور سانبہ حال ماڈل ٹاوئن گنگیال جموں اور ایس آئی محمد مقبول ولد غلام نبی ساکن سری نگر حال اپر ٹھاٹھر بنہ تالاب جموں شامل ہیں۔
ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ قبل ازیں جموں پولیس نے اس کیس میں شکایت کنندہ میر فراست علی خان کو 62 لاکھ روپیے بر آمد کرکے واپس دلائے تھے جو اس دھوکہ دہی کا شکار ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں ایک بڑے پیمانے کی مجرمانہ سازش کا انکشاف ہوا جس میں ملزم محمد تاج خان خود کو جموں کا راجہ ظاہر کر رہا تھا جبکہ دیگر ملزمان اس کے ایجنٹ بن کر راجہ جموں کے خزانے سے نایاب کشمیر بلیو سیفائر فروخت کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے گھر کی تلاشی کے دوران ملزمان محمد تاج خان، محمد شفیع اور محمد مقبول کے قبضے سے متعدد جعلی قیمتی پتھر اور دیگر جعلی اشیا ضبط کیں۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ یہ ایف آئی آر 15 دسمبر 2024 کو پولیس اسٹیشن باہو فورٹ میں درج کی گئی تھی اور تحقیقات ایس ڈی پی او سٹی ویسٹ جموں کے سپرد کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے اس کیس کو بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام تک پہنچانے پر جموں پولیس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پولیس نے اس جرم کی رقم سے حاصل کی گئی جائیداد کی نشاندہی اور ثبوت بھی پیش کئے ہیں اور ملزمان کی جانب سے دھوکہ دہی کی رقم سے خریدی گئی جائیداد کی ضبطی کے لئے بی این ایس ایس کی دفعہ 107 کے تحت معزز ریلوے کورٹ جموں میں درخواست دائر کی گئی ہے جو انصاف کے نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔





