شرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سخت بیانات اور فوجی دعوؤں کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر میزائل حملے، سعودی عرب میں ڈرون مار گرائے انے اور عمان میں ڈرون گرنے کے واقعات نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے سامنے آنے والی تازہ پیش رفتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ اس وقت غیر معمولی سکیورٹی خدشات اور ممکنہ تصادم کے ماحول سے گزر رہا ہے۔
عمان میں ڈرون گرنے سے دو غیر ملکیوں کی ہلاکت
عمان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔عمان کی خبر رساں ایجنسی کو ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ صحار کے الاواحی صنعتی علاقے میں ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں دو غیر ملکی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
ایک دوسرا ڈرون بھی صحار کے ایک کھلے علاقے میں گر کر تباہ ہوا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عمان میں حکام دونوں واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایران کا امریکی طیارہ بردار بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنانے اور ’غیر فعال‘ کرنے کا دعویٰ
ایران کے پاسداران انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملے میں امریکی بحری بیڑے کو ’غیر فعال‘ کر دیا ہے اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو امریکی بحری بیڑے کو ایران کی سمندری حدود سے 340 کلو میٹر دُور بحیرہ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں بحری بیڑے کی اہم تنصیبات بشمول ڈرون مخالف دفاعی نظام، ڈرون کے لیے ذخیرہ اور دیکھ بھال کے علاقے، سپورٹ آلات، اور فیول ٹینک کو درست میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن بدستور آپریشن ایپک فیوری میں حصہ لے رہا ہے اور سمندر سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی حکومت کی اہم شخصیات کو ہلاک کرنا ’میرے لیے اعزاز‘ ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایرانی حکومت کے ارکان کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کو اپنے لیے ’بڑا اعزاز‘ قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ تروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کو فوجی، معاشی اور دیگر طریقوں سے مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔‘

ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ’47 برسوں سے دنیا بھر میں وہ(ایران) بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور اب میں، بطور امریکہ کا 47 واں صدر انھیں ہلاک کر رہا ہوں۔ یہ کرنا کتنا بڑا اعزاز ہے۔‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو گئی ہے، ان کی فضائیہ اب موجود نہیں، میزائل، ڈرون اور باقی سب کچھ تباہ کیا جا رہا ہے، اور ان کے رہنماوں کا نشان تک زمین سے مٹا دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس موجود اسلحہ اور جنگی طاقت بہت زیادہ ہے اور بہت زیادہ وقت ہے۔ دیکھیں کہ ان لوگوں کے ساتھ آج کیا ہوتا ہے۔‘
سعودی عرب کا مزید آٹھ ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کی فضائی دفاع نے مزید آٹھ ڈرونز گرا دیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ صوبہ الخرج اور ریاض کے علاوہ یہ ڈرون وسطی اور مشرقی علاقوں میں مار گرائے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی وزارت دفاع نے اطلاع دی تھی کہ حملوں کی نئی لہر میں 14 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے بعد مزید آٹھ ڈرونز کے تباہ کرنے کا بیان سامنے آیا ہے۔
اسرائیل پر میزائل حملے میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو باہر نہ نکلنے کی ہدایات
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز نے جمعے کی علی الصبح شمالی حصے میں واقع ایک گاؤں پر میزائل گرنے سے درجنوں افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ایم ڈی اے (ماگن ڈیوڈ ادوم) ایمبولینس سروس نے کہا کہ طبی عملے نے 58 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور انھیں ناصرہ کے قریب واقع مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک خاتون جنھیں میزائل کا ایک نوکدار ٹکڑا لگا، وہ قدرے زخمی ہیں جبکہ باقی 57 افراد کو شیشے کے ٹکڑوں سے معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کے اہلکاروں کو جائے وقوع پر بھیج دیا گیا ہے۔

فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’فورسز ہنگامی اور ریسکیو اداروں کے تعاون سے موقع پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ علاقے کو کلیئر کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں ای آئی ڈی ایف نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے متاثرہ علاقوں میں موبائل فونز پر وارننگ بھیج دی گئی ہے اور عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مزید اطلاع تک محفوظ جگہوں سے باہر نہ نکلیں۔





