جمعہ, مارچ ۱۳, ۲۰۲۶
18.3 C
Srinagar

جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے سے حالات بہتر ہوں گے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

جموں،: نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ  نے جمعہ کو دوبارہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ مکمل ریاستی حیثیت بحال ہونے پر خطے کے حالات میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔

سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ سابق ریاست کے سیاسی درجے کی بحالی کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ حکمرانی اور ترقیاتی چیلنجز کا حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا،یہاں ریاستی درجہ بحال ہونا چاہیے۔ جتنا جلد یہ عمل مکمل ہوگا، اتنی ہی جلد حالات بہتر ہوں گے۔”

یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگست 2019 میں خطے کی تنظیمِ نو کے بعد ریاستی درجہ کی بحالی پر سیاسی بحث جاری ہے۔

نیشنل کانفرنس مسلسل ریاستی درجہ کی واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوری حکمرانی کو مضبوط بنانے اور مقامی نمائندوں کو زیادہ انتظامی اختیارات دینے کے لیے ضروری ہے۔

عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی واپسی بہتر حکمرانی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی اور عوام کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا،:ریاستی درجہ بحال ہوتے ہی حالات میں نمایاں بہتری آئے گی۔”

جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کو دوبارہ ریاستی درجہ دیا جائے، جو سابق ریاست کے دو مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم ہونے کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد سے کئی سیاسی رہنماؤں نے مرکز سے کہا ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے وعدے پورے کیے جائیں۔
مرکزی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ حد بندی کے عمل کی تکمیل اور اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بعد مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔

(کے این ٹی)

Popular Categories

spot_imgspot_img