نئی دہلی،: ہندستان اور یورپ کے 27 ممالک کی اقتصادی و سیاسی یونین یورپی یونین (ای یو) کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پیر کو قومی دارالحکومت میں طے پا گیا وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو اس کا اعلان کرتے ہوئے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا وزیر اعظم نے یہ اعلان گوا میں منعقدہ توانائی کے شعبے پر ہندستان کی عالمی کانفرنس ’انڈیا انرجی ویک‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مسٹرمودی نے کہا، ’’اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک بڑے مثبت واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ کل ہی ہندستان اور یورپی یونین کے درمیان ایک بہت بڑا معاہدہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس کی چرچا ’مدر آف آل ڈیلز‘ (اب تک کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ) کے طور پر کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’یہ معاہدہ ہندستان کے 140 کروڑ عوام اور یورپی ممالک کے کروڑوں لوگوں کے لیے بڑے مواقع لے کر آیا ہے۔ یہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کی ایک شاندار بنا ہے۔ یہ معاہدہ عالمی جی ڈی پی کے قریب 25 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ تجارت کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تئیں ہماری مشترکہ وابستگی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔‘‘

قابلِ ذکر ہے کہ یورپی یونین ہندستان کا ایک اہم تجارتی اور اقتصادی شراکت دار ہے۔ سال 2024-25 میں دونوں کے درمیان 136 ارب ڈالر کی اشیاء کی تجارت ہوئی تھی۔ ہندستان وہاں سے بنیادی طور پر مشینری، نقل و حمل کے آلات اور کیمیکلز درآمد کرتا ہے، جبکہ ہندستان کی جانب سے وہاں مشینیں، کیمیکلز، لوہا، ایلومینیم اور تانبہ جیسی بنیادی دھاتیں، معدنی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی اشیاء برآمد کی جاتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’ساتھیو، ای یو کے ساتھ ہوا یہ ایف ٹی اے برطانیہ اور ایفٹا (یورپین فری ٹریڈ ایسوسی ایشن) کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کا تکمیلی کردار ادا کرے گا۔ اس سے تجارت اور عالمی سپلائی چین دونوں کو مضبوطی ملے گی۔ میں ہندستان کے نوجوانوں اور تمام ہم وطنوں کو اس کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ میں ٹیکسٹائل، جواہرات و زیورات، چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات سے وابستہ ساتھیوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ معاہدہ آپ کے لیے نہایت معاون ثابت ہوگا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اس تجارتی معاہدے سے ہندستان میں مینوفیکچرنگ کو تقویت ملے گی اور خدمات سے وابستہ شعبوں میں بھی مزید توسیع ہوگی۔ یہ ایف ٹی اے دنیا کے ہر کاروبار اور ہر سرمایہ کار کے لیے ہندستان پر اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اس وقت ہندستان میں ہیں۔ دونوں پیر کو یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں مہمانِ خصوصی تھے۔محترمہ وان ڈیر لیین نے حال ہی میں داووس میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے اجلاس کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے پر اتفاق کے اشارے دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ’مدر آف آل ڈیلز‘ یعنی اب تک کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس معاہدے سے ہندستان اور یورپی یونین کی دو ارب کی مجموعی آبادی کا ایک بڑا اورکھلا بازار تیار ہوگا۔ اس معاہدے کی تفصیلات کا اعلان آج شام صنعت و تجارت کے وزیر پیوش گوئل کریں گے۔
ہند-یوروپی یونین تجارتی معاہدہ نئی تاریخ کا آغاز: فان ڈیر لین

یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لین نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کو ایک نئی تاریخ کا آغاز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں فریق مستقبل میں اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے منگل کو اس معاہدے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ‘ہندوستان اور یوروپ آج تاریخ رقم کر رہے ہیں ہم نے وہ معاہدہ کر لیا ہے جو ‘مدر آف آل ڈیلز’ (اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ) ہے۔ ہم نے دو ارب کی آبادی کا ایک آزاد تجارتی علاقہ تخلیق کیا ہے، جس سے فریقین کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔’
یوروپی کمیشن کی صدر نے کہا، ‘یہ صرف شروعات ہے، ہم اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔’
اس سے قبل محترمہ فان ڈیر لین نے اپنے ساتھی اور یوروپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ہمراہ صبح ہی حیدرآباد ہاؤس میں جناب مودی کے ساتھ بات چیت کی۔
یوروپی یونین کے یہ دونوں رہنما صبح گاندھی سمادھی پر خراجِ عقیدت پیش کرنے راج گھاٹ گئے تھے۔
مسٹر کوسٹا نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر گل دائرہ نذر کرنے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے عالمی امن کی خواہش کی۔ انہوں نے گاندھی جی کو یاد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا، ‘اس دنیا میں ان کے الفاظ آج بھی پہلے جیسی طاقت کے ساتھ گونج رہے ہیں۔ امن ہتھیاروں کی لڑائی سے نہیں، بلکہ مشکل حالات میں نہتی قوموں کی جانب سے کیے گئے اور جی کر دکھائے گئے انصاف کے راستے سے پیدا ہوگا۔’
یو این آئی




