عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم وہ ’محفوظ‘ ہیں۔
یوسف پزشکیان کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ انھیں بھی ایسی ’اطلاعات ملی ہیں‘ کہ نئے رہبرِ اعلیٰ زخمی ہیں۔’میں نے متعدد دوستوں سے پوچھا جن کے رابطے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ: ’خدا کے فضل سے، وہ محفوظ ہیں اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی نے خبر دی تھی کہ نئے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔مجتبی کے والد علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے خامنہ ای کو ’رمضان کی جنگ کا زخمی فوجی‘ کہا تھا لیکن یہ نہیں بتایا کہ زخم کی نوعیت کیا ہے۔بدھ کو نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں تین ایرانی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خامنہ ای زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کی ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں لیکن وہ ہوش میں ہیں اور انہوں نے ایک انتہائی محفوظ مقام پر پناہ لے رکھی ہے۔




