عالمی میڈیا
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بات کا یقین ہے کہ بین الاقوامی قوانین سے زیادہ اہم اس کی طاقت ہے۔
بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے، انتونیو گوتیرس کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو واضح طور پر یہ یقین ہے کہ کثیرالجہتی حل کام نہیں کرتے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کی نظر میں جو چیز اہم ہےوہ ’امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کا استعمال‘ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور اس کے صدر کو پکڑنے کے کئی ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ کچھ عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ تواتر سے گرین لینڈ کو امریکہ میں ضم کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے آئے ہیں۔گوٹیرس نے کہا کہ ان کے خیال میں اقوام متحدہ کے رہنما اصول – بشمول یہ کہ اس کے تمام رکن ممالک کو برابری کا حق حاصل ہے – اب خطرے میں ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ اقوام متحدہ پر تنقید کرتے آئے ہیں۔گذشتہ ستمبر میں جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے بل پر ’سات ناقابل ختم جنگیں ختم کروائی ہیں‘ اور اقوام متحدہ نے ’اس میں کسی طرح سے مدد کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’مجھے بعد میں احساس ہوا کہ اقوام متحدہ کبھی ہمارے لیے آیا ہی نہیں۔‘انٹرویو کے دوران گوتیرس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی تنظیم ممبران سے اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کردہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کروا پا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ بڑے عالمی تنازعات کو حل کرنے کے بے حد کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے پاس کوئی طاقت نہیں جبکہ بڑی طاقتوں کا اثر و رسوخ اقوام متحدہ سے کہیں زیادہ ہے۔




