سری نگر: حکام نے بتایا کہ جموں وکشمیر حکومت نے محکمہ جل شکتی کے تین ملازموں کو مبینہ طور پر ملک مخالف اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ملازمت سے بر طرف کر دیا ہے۔
برطرف شدہ ملازموں میں لیاقت علی باغوان ولد عزیز محمد باغوان، نیڈ بیسڈ کیجول لیبرر (این بی سی ایل) ساکن باغوان محلہ ہول کشتواڑ، شوکت احمد زرگر ولد نذیر احمد زرگر، ڈیلی ریٹڈ ویجر (ڈی آر ڈبلیو) ساکن اقبال محلہ بجبہاڑہ اننت ناگ اور کوثژ حسین باغوان ولد محمد اکبر باغوان، نیڈ بیسڈ کیجول لیبرر (این بی سی ایل) ساکن ہنجالہ کشتواڑ شامل ہیں۔
محکمہ جل شکتی کے فنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکریٹری) شالین کبرہ کی جانب سے 9 مارچ کو جاری کردہ الگ الگ حکم ناموں کے مطابق یہ کارروائی محکمہ داخلہ کی سفارشات اور ان افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج فوجداری مقدمات کی بنیاد پر انتظامی مفاد میں انجام دی گئی۔
حکمناموں کے مطابق لیاقت احمد باغوان کا نام ایک ایف آئی آر میں شامل ہے جو یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔ ان دفعات کا تعلق مبینہ طور پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردانہ کارروائیوں کی سازش، دہشت گردوں کو پناہ دینے اور کسی دہشت گرد تنظیم کی رکنیت یا اس کی حمایت سے ہے۔حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس ایکٹ کے تحت چارج شیٹ عدالت کی داخل کی جاچکی ہے اور مقدمہ زیر سماعت ہے۔اسی طرح کوثر باغوان کا نام بھی اسی ایف آئی آر میں یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت شامل ہے جس میں اس پر دہشت گردانہ سرگرمیوں اور متعلقہ جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات کے بعد اس کے خلاف بھی چارج شیٹ داخل کی گئی ہے اور مقدمہ زیر سماعت ہے۔
دریں اثنا شوکت احمد زرگر کے خلاف آرمز ایکٹ اور یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس مقدمے میں ان پر اقدام قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گردانہ کارروائیوں اور سازش میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آمز ایکٹ اور یو اے پی اے کی دفعات کے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے اور یہ معاملہ بھی اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔
سرکاری حکمناموں میں کہا گیا کہ انتظامی مفاد میں تینوں ملازموں کو فوری طور پر ملازمت سے بر طرف کیا گیا ہے۔





