ونگ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرائم برانچ نے محمد حسین شاہ ساکن سیدا پورہ شوپیاں حال ننر کا وا باغ گاندربل جو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) گاندربل ڈویژن کا ریٹائرڈ ملازم ہے، کے خلاف غیر قانونی طور پر مہاجر ریلیف حاصل کرنے کے الزام میں عدالت 19 – الیکٹریسٹی مجسٹریٹ جموں میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چارج شیٹ مہاجر کے طور پر غیر قانونی اندراج اور اہل نہ ہونے کے باوجود 18 لاکھ 30 ہزار 2 سو 65 روپیے کی مہاجر امداد فراڈ کے ذریعے حاصل کرنے سے متعلق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحریری شکایت موصول ہونے پر تحقیقاتی ایجنسی نے الزامات کی جانچ کی جن کے مطابق ملزم جو پی ایچ ای کا ملازم تھا، نے غیر قانونی طریقوں سے نقدی کی صورت میں مہاجر ریلیف حاصل کی ہے۔
بیان کے مطابق ملزم پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے متعلقہ مدت کے دوران سرکاری ملازمت میں ہونے کے باوجود خود کو اور اپنے اہلخانہ کو مہاجر کے طور پر غیر قانونی طور پر رجسٹر کرایا جس کے باعث وہ اس امداد کا اہل نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ کی طرف سے تفصیلی تحقیقات کی گئیں اور اس دوران بادی النظر میں یہ ثابت ہوا کہ ملزم نے جان بوجھ کر اپنی ملازمت کی حیثیت کے بارے میں غلط بیانی کی اور اہم حقائق کو چھپایا تاکہ مہاجر کے طور پر اندراج حاصل کیا جاسکے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم نے نا اہل ہونے کے باوجود مسلسل مہاجر ریلیف حاصل کی جس سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان ہوا۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران جمع کئے گئے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت ہوا کہ ملزم کے افعال تعزیرات ہند (آر پی سی) کی دفعہ 420 کے تحت قابل سزا جرم کے زمرے میں آتے ہیں اور دستیاب شواہد الزامات کی مکمل تائید کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام قانونی و ضابطہ جاتی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد چارج شیٹ عدالتی کارروائی کے لئے مجاز عدالت میں پیش کی گئی۔





