بدھ, جنوری ۱۴, ۲۰۲۶
9.4 C
Srinagar

وٹامن۔ آر

تحریر :شوکت ساحل

11جنوری2026، اتوار۔۔۔اتوار کا دن میرے لیے ہفتے کا وہ واحد دن ہوتا ہے جب میں چاہ کر بھی مکمل طور پر خود کو فارغ نہیں کر پاتا، مگر پھر بھی کوشش یہی رہتی ہے کہ اس دن کو اپنی فیملی کے نام کر دوں،بشرطیکہ کوئی ہنگامی صورتحال پیدا نہ ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس پیشے سے میرا تعلق ہے، وہاں ہنگامی کیفیت کسی استثنا کا نام نہیں بلکہ معمول ہے۔ خبر کی تلاش، حالاتِ حاضرہ پر نظر اور کسی بھی لمحے بدلتی صورتحال ،یہ سب ہماری پیشہ ورانہ زندگی کا مستقل حصہ ہیں۔بہرکیف، اس اتوار قدرت نے بھی جیسے ہمیں گھر کی چار دیواری میں سمیٹ دیا تھا۔ شدید ٹھنڈ، دھند اور سرد ہواؤں نے باہر نکلنے کا ہر امکان ختم کر دیا۔ نہ سیر کا پروگرام، نہ کسی موڑ یا ملاقات کی گنجائش۔ گھر میں بیٹھے بیٹھے ایک عجیب سی اکتاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ ایسے میں خیال آیا کہ کیوں نہ’ ٹیلی ویژن آن ‘کیا جائے اور کوئی اچھی فلم دیکھی جائے۔شریکِ حیات کو اطلاع دی کہ ایک کپ چائے درکار ہے، آج بڑی مدت بعد سکون سے فلم دیکھنے کا ارادہ ہے۔ حسبِ روایت ہلکی سی نوک جھونک کے بعد چائے کا کپ ہاتھ میں آیا اور میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا۔یوٹیوب کھولا۔ ذہن میں کسی خاص فلم کا نام نہیں تھا۔ تلاش کے اس مرحلے پر یوٹیوب کے ’اے آئی‘ سے مدد لی اور ستر کی دہائی میں بننے والی ہندی فلموں کی فہرست مانگی۔ کئی نام اسکرین پر آئے، لیکن ایک عنوان نے فوراً توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔’گھر گھر کی کہانی‘۔نام ہی میں ایک گہری معنویت تھی۔ سوچا، کیوں نہ یہی فلم دیکھی جائے۔

ستر کی دہائی میں ٹی۔ پرکاش راؤ کی ہدایت میں بننے والی یہ فلم دیکھتے ہی دل میں اترتی چلی گئی۔ یہ محض ایک خاندانی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے سماج کا عکس ہے۔ خاص طور پر آج کے کشمیر میں جن سماجی، معاشی اور اخلاقی تضادات سے ہم گزر رہے ہیں، یہ فلم حیرت انگیز طور پر ان سب کی عکاسی کرتی محسوس ہوئی۔فلم کے مرکزی کرداروں میں’بالراج سہنی، نروپا رائے، راکیش روشن، نیتو سنگھ، اوم پرکاش اور ششی کلا‘جیسے عظیم اداکار شامل ہیں۔ لیکن درحقیقت اس فلم کا سب سے مضبوط کردار ’ایمانداری‘ ہے اور اس کے مقابل ’وٹامن۔ آر‘۔کہانی ایک ایسے سرکاری افسر کے گرد گھومتی ہے جو نہایت ایماندار، اصول پسند اور فرض شناس ہے۔ بالراج سہنی نے اس کردار کو جس وقار اور سچائی کے ساتھ نبھایا ہے، وہ آج کے دور میں ایک خواب سا لگتا ہے۔ یہ افسر اپنی محدود تنخواہ میں گھر کا نظام چلاتا ہے، خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور اپنی اولاد کو دیانت داری کی تعلیم دیتا ہے۔اسی افسر کا ایک ماتحت ملازم ہے، جس کا کردار اوم پرکاش نے ادا کیا ہے۔ یہ ملازم رشوت لیتا ہے، ناجائز کمائی کرتا ہے اور اسی کو ذہانت، ہوشیاری اور کامیابی کا پیمانہ سمجھتا ہے۔ یہاں فلم دو واضح راستے دکھاتی ہے۔ایک راستہ حلال کمائی اور صبر کا،اور دوسرا راستہ رشوت، لالچ اور وقتی آسائشوں کا۔

فلم کا سب سے طاقتور اور چونکا دینے والا لمحہ وہ ہے جب افسر کا نوجوان بیٹا اپنے والد سے سوال کرتا ہے:’آپ ہماری ضروریات پوری کیوں نہیں کرتے؟ جب کہ آپ کا ماتحت ملازم اپنی اولاد کو ہر خوشی دے رہا ہے۔ آپ افسر ہیں، بڑے عہدے پر ہیں، تنخواہ بھی زیادہ ہے، پھر کمی کیوں؟‘یہ سوال صرف فلمی مکالمہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ہزاروں گھروں میں روز گونجنے والی آواز ہے۔باپ بیٹے کی اس تکرار کے بعد باپ ایک جرات مندانہ فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اپنی پوری تنخواہ بیٹے کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے اور کہتا ہے:’چھ ماہ تک تم اس گھر کی ذمہ داری سنبھالو۔‘یہی وہ مقام ہے جہاں فلم ایک سبق سے بڑھ کر ایک تجربہ بن جاتی ہے۔پہلے مہینے بیٹا پورا بجٹ بناتا ہے، حساب کتاب کرتا ہے، کچھ پیسے بچا لیتا ہے اور فخر سے بہن بھائیوں کو بتاتا ہے کہ دیکھو، ہم نے بچت کر لی۔دوسرے مہینے اخراجات بڑھنے لگتے ہیں۔تیسرے مہینے تہوار آ جاتا ہے، مہمان دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور ماں کی بیماری حالات کو یکسر بدل دیتی ہے۔یہاں بیٹے کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی صرف منصوبہ بندی سے نہیں، حالات سے بھی چلتی ہے۔ماں کی بیماری بیٹے کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم نوکری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایک دن باپ اسے دیکھ کر چونکتا ہے اور پوچھتا ہے کہ تم ملازمت کیوں کر رہے ہو، میں زندہ ہوں، تمہاری ذمہ داری میری ہے۔بیٹا جواب دیتا ہے:’ماں کی بیماری نے مجھے مجبور کیا ہے۔ میں پڑھائی کے بعد یہ نوکری کرتا ہوں۔‘یہ مکالمہ باپ کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے:’بیٹا، تم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے ہو۔ میں تمہیں اس بوجھ سے آزاد کرتا ہوں۔‘لیکن بیٹا جواب دیتا ہے:’نہیں، ابھی چھ ماہ پورے نہیں ہوئے۔‘

دوسری طرف اوم پرکاش کا کردار، یعنی رشوت خور ملازم، اپنے ساتھی سے کہتا ہے:’میں روز وٹامن۔ آر لیتا ہوں۔ یہ مجھے دنیا کی ساری خوشیاں دیتا ہے۔ اگر خوش رہنا ہے تو وٹامن۔ آر لینا ہوگا۔‘یہ’ وٹامن۔ آر‘ دراصل رشوت ہے۔وہ زہر جسے ہم خوشی کی دوا سمجھ بیٹھے ہیں۔فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ جب انسان اپنی کمبل سے زیادہ پیر پھیلاتا ہے تو پھر قانون، اخلاق اور ضمیر سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن انجام بھی سامنے آتا ہے۔ ویجی لینس محکمہ حرکت میں آتا ہے اور رشوت خور ملازم سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔آج کے کشمیر میں ہمیں ایسی فلموں کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ دکھاوے، مقابلہ بازی اور غیر ضروری خواہشات کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ آمدنی محدود ہے، مگر اخراجات بے قابو۔ نتیجہ وہی؛رشوت، دباؤ اور بے سکونی۔ہمیں خواتین کو، اپنے بچوں کو اور پورے خاندان کو یہ سکھانا اورسمجھانا ہوگا کہ خوشی کا تعلق وٹامن۔ آر سے نہیں، بلکہ قناعت اور توازن سے ہے۔فضول خرچی، دِکھا دیکھی کی وبا، اس کے پاس گاڑی ہے تو میرے پاس کیوں نہیں؟، جیسی سوچ اور جھوٹی شان و نمود نے گھروں کے سکون کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ہم دوسروں کی زندگیوں کا مقابلہ کرتے کرتے اپنی اصل حیثیت بھول چکے ہیں اور خواہشات کی اس دوڑ میں وہ سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں جو حقیقت میں قیمتی تھا،’سکون، اعتماد اور گھریلو خوشحالی‘۔ ضرورت اور خواہش میں فرق نہ سمجھا گیا تو انجام وہی ہوگا جو وٹامن۔ آر کے عادی کرداروں کا ہوا۔رشوت کے خاتمے میں حکومت اور ادارے اہم ہیں، لیکن اصل ذمہ داری بطور معاشرہ ہماری بھی ہے۔ جب تک ہم خود وٹامن۔ آر کو کامیابی کا نسخہ سمجھتے رہیں گے، تب تک کوئی نظام ہمیں نہیں بچا سکتا۔گھر گھر کی کہانی دراصل یہی پیغام دیتی ہے،ایمانداری وقتی طور پر مشکل ضرور ہے،مگر انجام کے اعتبار سے یہی واحد کامیاب راستہ ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img