پیر, مارچ ۲, ۲۰۲۶
17.7 C
Srinagar

سرینگر سے تہران تک: آیت اللہ علی خامنہ ای کی 15 منٹ کی تقریر اور کشمیر سے ان کا گہرا تعلق کیوں اہم ہے؟


سرینگر: آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتلِ ناحق  پر کشمیر میں سامنے آنے والا شدید عوامی ردعمل محض وقتی جذبات کا اظہار نہیں تھا، بلکہ اس کی جڑیں چار دہائیوں سے بھی زیادہ پرانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ اس ردعمل کو سمجھنے کے لیے ہمیں 46 برس پیچھے جانا ہوگا، جب ایران کے انقلاب کی گونج وادیٔ کشمیر تک پہنچی اور ایک مختصر مگر اثر انگیز تقریر نے کشمیری عوام اور ایرانی قیادت کے درمیان ایک جذباتی و روحانی رشتہ قائم کر دیا۔

انقلاب ایران سے سرینگر تک کا سفر

1979 میں ہزاروں میل دور ایران میں آنے والے انقلاب اور اس کے قائد امام خمینیؒ سے کشمیری عوام ابتدائی طور پر اخباری سرخیوں کے ذریعے واقف ہوئے۔ انقلاب کے ایک سال بعد امام خمینی نے اپنے قریبی رفقا کو دنیا کے مختلف خطوں میں بھیجا۔ اسی سلسلے میں 1980 میں ان کے دستِ راست علی خامنہ ای سرینگر پہنچے۔

سرینگر ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد نے ان کا استقبال کیا۔ اُس وقت کے میرواعظ محمد فاروق (میرواعظ عمر فاروق کے والد) کی دعوت پر وہ تاریخی جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے لیے پہنچے۔

تصویر کا ذریعہ:سوشل میڈیا و گوگل

صرف 15 منٹ کی اس تقریر میں خامنہ ای نے مسلکی اتحاد پر زور دیا، امام خمینی کا تعارف پیش کیا اور ایرانی انقلاب کے مقاصد واضح کیے۔ یہ تقریر فارسی میں تھی، جس کا کشمیری ترجمہ آغا سید محمد حسین نے پیش کیا۔

’15 منٹ کی تقریر نے ہیرو بنا دیا‘

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق معروف شیعہ دانشور اور مورخ قلب حسین رضوی کشمیری نے اپنی خودنوشت سوانح میں اس دورے کی تفصیل درج کی ہے۔ 2015 میں ان کے انتقال کے باوجود ان کی سوانح کشمیر کے علمی و ادبی حلقوں میں مقبول ہے۔

وہ لکھتے ہیں:’فقط 15 منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا۔ انھوں نے نہ صرف اتحاد کی اہمیت بیان کی بلکہ ایک سُنی مسجد میں جا کر سُنی امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ اُس وقت تک شیعہ اور سُنی ایک دوسرے کی مساجد میں نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ ان کے اس عمل نے مسلکی رواداری اور بھائی چارے کی ایک نئی روایت قائم کی جو آج بھی قائم ہے۔‘

رضوی کے مطابق خامنہ ای کی آمد سے قبل نوجوانوں نے گاڑی پر لاؤڈ اسپیکر نصب کر کے سرینگر کی بستیوں میں ان کی آمد کا اعلان کیا اور عوام سے جامع مسجد پہنچنے کی اپیل کی۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو گاڑیوں کا طویل کارواں ان کے ساتھ تھا، لیکن جامع مسجد میں دی گئی مختصر تقریر ہی وہ لمحہ ثابت ہوئی جس نے ایرانی قیادت اور کشمیری عوام کے درمیان ایک مستقل جذباتی تعلق کی بنیاد رکھ دی۔

مذہبی، روحانی اور ثقافتی رشتہ

سرینگر کے متعدد علاقوں اور ضلع بڈگام کی بیشتر بستیوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے ادارے کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہاں کی شیعہ آبادی عقیدے اور روزمرہ معاملات میں اسی مرجع کی ہدایات پر عمل پیرا رہی ہے۔

دانشور سید سبط حسن کے مطابق، خامنہ ای کو محض ایک غیرملکی رہنما نہیں بلکہ ولایتِ فقیہہ کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے بقول، ’عبادات سے لے کر تجارت، شادی بیاہ اور تجہیز و تکفین تک، سبھی معاملات میں انہی کی رہنمائی معتبر سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے یہ قتل ہمیں یتیم کر دینے کے مترادف ہے۔‘

تصویر کا ذریعہ:سوشل میڈیا و گوگل

ایران اور کشمیر کے تعلقات کی بنیاد صرف مسلکی ہم آہنگی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط روحانی اور ثقافتی روابط بھی ہیں۔ چودھویں صدی میں ایران سے آنے والے صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانیؒ اور حضرت بلبل شاہؒ نے وادی میں اسلام کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔

سید علی ہمدانی کے ساتھ آنے والے تقریباً 700 ایرانی سادات مختلف ہنروں کے ماہر تھے، جن میں پیپر ماشی، شال بافی، قالین بافی، سنگ تراشی اور شیشہ گری شامل تھیں۔ انہی کی بدولت یہ دستکاریاں کشمیر کی معیشت کا مستقل حصہ بن گئیں۔

فارسی زبان اور ادبی رشتے

انیسویں صدی تک کشمیر کی سرکاری زبان فارسی تھی، جس نے ایران سے ثقافتی تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ بعد ازاں ڈوگرہ مہاراجہ کے دور میں اسے بدل کر اردو کو سرکاری زبان بنایا گیا۔

کشمیر کے معروف شاعر ملا طاہر غنی کشمیری فارسی کے عالمی شہرت یافتہ شاعر تھے اور ایران کے ادبی حلقوں میں بے حد مقبول رہے۔ ان ہی کے باعث ایرانی شعرا اور ادبا کی ایک بڑی تعداد کشمیر آئی۔ سرینگر کے ڈل گیٹ علاقے میں ایرانی شعرا کے لیے مخصوص قبرستان ’مزارِ شعرا‘ آج بھی اس ادبی تعلق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

 

کیا امام ِخمینی کے اجداد کشمیری تھے؟

یہ سوال کہ آیا امامِ خمینی کے اجداد کشمیری تھے، کشمیر کے علمی و ادبی حلقوں میں دہائیوں سے زیر بحث ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے بڈگام کے شیعہ رہنما آغا سید یوسف موسوی اور خمینی کے درمیان 1960 اور 1970 کی دہائی میں عراق میں جلاوطنی کے دوران ہونے والی خط و کتابت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سید یوسف کے بیٹے فضل اللہ، جو اُس وقت نجف میں زیر تعلیم تھے، دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا کردار ادا کرتے تھے۔

تصویر کا ذریعہ:سوشل میڈیا و گوگل

سید باقر کی کتاب ’تجلیات‘ کے مطابق 1978 میں جب امام ِخمینی پیرس میں مقیم تھے تو ایک صحافی کے سوال پر کہ اگر فرانس نے پناہ دینے سے انکار کر دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟، امام خمینی نے جواب دیا:’فرانس نے نکال دیا تو کشمیر جاؤں گا، کیونکہ عراق میں قیام کے دوران ہی مجھے سید یوسف نے کشمیر آنے کی دعوت دی تھی۔‘

اسی کتاب میں درج ایک خط میں امام خمینی نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ کشمیر جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اسے اپنی آبائی سرزمین سمجھتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کے حق میں تاحال کوئی حتمی تاریخی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

Popular Categories

spot_imgspot_img