یوٹیوب پر 140 سالہ دورانیے کی ویڈیو نے مچائی ہلچل
نئی دہلی،: حال ہی میں یوٹیوب پر ایک عجیب و غریب ویڈیو نے انٹرنیٹ صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ یہ ویڈیو نہ کسی منظر اور نہ ہی کسی آواز پر مشتمل ہے، بلکہ اس کی اصل وجۂ شہرت اس کا غیر معمولی دورانیہ ہے۔ 5 جنوری 2026 کو @ShinyWR نامی چینل سے اپلوڈ کی گئی اس ویڈیو کا 140 سالہ دورانیہ صارفین کے لیے معمہ بنا ہوا ہے۔
ویڈیو کے تھمب نیل پر ابتدا میں اس کا دورانیہ 140 سال دکھائی دیتا ہے، تاہم جیسے ہی ناظرین پلے بٹن دباتے ہیں تو ویڈیو کا اصل دورانیہ اچانک گھٹ کر 12 گھنٹے، 34 منٹ اور 56 سیکنڈ رہ جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی معمہ برقرار ہے، کیونکہ پوری ویڈیو میں نہ کوئی آواز ہے، نہ منظر اور نہ ہی کوئی تحریر صرف ایک سیاہ اسکرین ںطر آتی ہے۔
اس ویڈیو نے بے پناہ توجہ حاصل کی ہے اور اب تک 25 لاکھ سے زائد ویوز حاصل کر چکی ہے، جبکہ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس پر دسیوں ہزار کمینٹس کیے جا چکے ہیں۔ ویڈیو کے غیر معمولی دورانیے کے اسکرین شاٹس اور کلپس وائرل ہو گئے ہیں، جس سے ویڈیو کے مقصد کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔
اس تجسس میں مزید اضافہ ویڈیو کی تفصیل سے ہوتا ہے، جس میں موجود عربی حروف کا ترجمہ ہے، ’’آؤ، مجھ سے جہنم میں ملو‘‘۔ اس جملے نے ناظرین کے درمیان قیاس آرائیوں اور سازشی نظریات کو جنم دے دیا ہے۔ بعض صارفین نے اسے کسی خفیہ کوڈ یا علامتی پیغام قرار دیا، جبکہ دیگر اسے کسی آن لائن تجربے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
اس ShinyWR نامی چینل کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ شمالی کوریا سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ چینل نے 31 جولائی 2023 کو یوٹیوب جوائن کیا تھا اور اس وقت اس کے تقریباً ایک لاکھ 57 ہزار سبسکرائبرز ہیں۔ چینل پر اس سے قبل بھی غیر معمولی طور پر طویل دورانیے کی ویڈیوز موجود ہیں، جن میں 294 گھنٹے کی ایک ویڈیو اور 300 گھنٹوں پر مشتمل ایک لائیو اسٹریم شامل ہے۔ انٹرنیٹ صارفین چینل کے پس منظر اور ویڈیو کے مقصد کے بارے میں مختلف آراء دے رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ یوٹیوب کا ٹیسٹنگ چینل ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ افراد کے مطابق یہ کسی الٹرنیٹ ریئلٹی گیم (اے آر جی) کا حصہ ہے۔ تھریڈز پر ایک صارف نے لکھا کہ ’’میرا خیال ہے کہ یہ یوٹیوب کا کوئی ٹیسٹنگ چینل ہے، بالکل ویسا ہی جیسے وہ چینلز ہوتے ہیں جن پر عجیب آوازوں کے تجربات کیے جاتے ہیں۔‘‘
ویڈیو کے ساتھ منسلک شمالی کوریا کی لوکیشن نے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے، جس سے کئی سازشی نظریات کو تقویت ملی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ایک یوزر نے قیاس آرائی کی کہ 140 سالہ ٹائم لائن شاید 1 جنوری 1886 کی طرف اشارہ کرتی ہے، اگرچہ اس دعوے کی حمایت میں کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔
ماہرین اور تجربہ کار یوٹیوبرز نے واضح کیا ہے کہ یہ ویڈیو یوٹیوب کی تاریخ کی سب سے طویل ویڈیو نہیں ہے۔ یہ ریکارڈ اب بھی جوناتھن ہارچک کی 2011 میں اپ لوڈ کردہ 596.5 گھنٹے طویل ویڈیو کے پاس ہے۔
کچھ ناظرین نے ویڈیو کی ممکنہ کمائی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک یوزر نے لکھا کہ ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسی ویڈیو میں کتنے اشتہارات چلیں گے اور اپ لوڈ کرنے والا کتنا پیسہ کما سکتا ہے۔‘‘ جبکہ کچھ لوگ گھنٹوں اس انتظار میں جاگتے رہے کہ شاید کچھ دیکھنے کو ملے، مگر انہیں صرف خاموشی ہی ملی۔
اگرچہ اس ویڈیو کا اصل مقصد تاحال واضح نہیں ہو سکا، لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ معمہ ہی اس کا اصل مواد ہے۔ تیز رفتار مناظر اور شور سے بھرے ڈیجیٹل دور میں ایک خاموش، خالی اسکرین انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع بن گئی ہے۔




