اپنے ہوائی جہاز ایئر فورس ون پر اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے کہا، "مسٹر مودی روس کے ساتھ ہندوستان کی توانائی کی تجارت پر ان کی ناراضگی کے بارے میں جانتے ہیں۔ مسٹر مودی بہت اچھے انسان ہیں اور وہ جانتے تھے کہ میں ناخوش ہوں۔ مجھے مطمئن کرنا ضروری تھا کیونکہ وہ کاروبار کرتے ہیں اور ہم ان پر بہت جلد ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں اور امریکہ نے پہلے ہی ہندوستان پر 50 فیصد تعزیری ٹیرف لگا رکھا ہے۔
یہ پیش رفت وینزویلا میں حالیہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکہ نے حراست میں لیا تھا۔ اس پیش رفت نے عالمی تیل کی جغرافیائی سیاست پر دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق، وینزویلا کے پاس 300 ارب بیرل سے زیادہ کا دنیا کا سب سے بڑا ثابت شدہ تیل کا ذخیرہ ہے، جو عالمی ذخائر کا تقریباً 17 سے 18 فیصد ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی جانب سے درآمدی محصولات کو دوگنا کرکے 50 فیصد تک کرنے کے بعد سے مسٹر مودی اور مسٹر ٹرمپ کے درمیان تین مرتبہ بات چیت ہوئی ہے۔ اس ٹیرف میں اضافے نے ٹیکسٹائل، کیمیکل اور جھینگے جیسی اشیا کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان تجارتی مذاکرات جولائی کے آخر میں اس وقت ناکام ہوگئے تھے، جب ہندستان نے اپنی زرعی منڈی کو امریکی مصنوعات کے لیے کھولنے کی مخالفت کی تھی اور ہندوستان پاکستان تنازع کے دوران مسٹر ٹرمپ کے ثالث کے کردار کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم اس وقت سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
دسمبر 2025 میں، امریکی نائب تجارتی نمائندے رک سوئزر نے نئی دہلی میں ہندوستانی حکام کے ساتھ دو روزہ ملاقاتیں کیں۔ اس دوران، ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری سے متعلق تعزیری ٹیرف سے راحت دینے پر زور دیاتھا۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے ان مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مسٹر ٹرمپ ہندوستان پر امریکی بازار میں چاول کی ڈنپنگ کا الزام لگاتے ہوئے ہوئے ہندوستانی چاول کی درآمدات پر بھی نئے محصولات عائد کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔
یواین آئی

ٹرمپ نے ہندوستان کو روسی تیل کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کی وارننگ دی
واشنگٹن،: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس سے تیل کی درآمدات کے معاملے میں ہندستان پر درآمدی ٹیرف بڑھانے کی وارننگ دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن اس معاملے میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہے اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر ان کی ناراضگی سے واقف ہیں۔




