ممبئی، : کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کا طویل علالت کے بعد جمعہ کو مہاراشٹر کے لاتور میں انتقال ہوگیا۔ اُن کی عمر 90 برس تھی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، مسٹر پاٹل نے آج صبح تقریباً 6:30 بجے لاتور میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور لاتور میں ہی ان کا علاج جاری تھا۔ اپنے طویل سیاسی کریر میں مسٹر پاٹل نے مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر دفاع سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ لوک سبھا کے اسپیکر بھی رہے۔
بارہ اکتوبر 1935 کو پیدا ہونے والے مسٹر پاٹل مہاراشٹر کے لاتور سے سات مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی حکومت میں انہیں وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ انہوں نے 1991 سے 1996 تک ملک کے دسویں لوک سبھا اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 2010 سے 2015 تک پنجاب کے گورنر اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے چنڈ گڑھ کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
مسٹر پاٹل 2008 کے ممبئی حملوں کے وقت ملک کے وزیر داخلہ تھے اور اس واقعے کے بعد ہوئی شدید تنقید کے نتیجے میں انہوں نے 30 نومبر 2008 کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
مسٹر پاٹل نے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کی اور بامبے یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ وہ 1967 سے 1969 کے دوران لاتور میونسپل کونسل میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ مسٹر پاٹل کا تعلق پنجم سالی لنگایت کمیونٹی سے تھا۔ انہوں نے جون 1963 میں وجیہ پاٹل سے شادی کی تھی۔ ان کے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔ وہ ستیہ سائی بابا کے بھی پُرجوش عقیدت مند تھے۔
وزیراعظم نے شیوراج پاٹل کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا
نئی دہلی، 12 اکتوبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر سے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر مودی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا ’’مسٹر شیوراج پاٹل جی کے انتقال کی خبر سے کافی دکھ ہوا ہے۔ وہ ایک تجربہ کار لیڈر تھے جنہوں نے اپنے طویل عوامی زندگی میں ممبر اسمبلی، رکن پارلیمنٹ، مرکزی وزیر، مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر اور لوک سبھا اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ سماج کی فلاح کے لیے کاموں کے لئے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔
گزشتہ کچھ برسوں کے دوران میری ان سے کئی بار گفتگو ہوئی، حال ہی میں ان سے ملاقات چند ماہ قبل میرے گھر پر ہوئی تھی۔ اس دکھ کی گھڑی میں میری تعزیت ان کے کنبے کے ساتھ ہے۔ اوم شانتی۔‘‘وزیراعظم نے مسٹر پاٹل کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر بھی شیئر کی۔





