سری نگر: سخت سیکورٹی بندو بست اور ٹھٹھرتی سردیوں کے بیچ بڈگام اسمبلی ضمنی انتخاب میں 17 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے منگل کی صبح سے ہی ووٹنگ کا سلسلہ پر امن طریقے سے جاری ہے اور دن کے 1 بجے تک ووٹنگ کی شرح 34.01 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ تمام پولنگ مراکز پر پولنگ کا عمل صبح ٹھیک 7 بجے شروع ہوا جو شام 6 بجے اختتام پذیر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ کا سلسلہ پر امن طریقے سے جاری ہے اور ووٹروں اور پولنگ عملے کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حلقے میں دن کے 1 بجے تک مجموعی طور پر پولنگ کی شرح 34.01 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ بڈگام اسمبلی حلقہ میں زائد از 1.26 لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں کے لئے 173 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ بڈگام اسمبلی نشست اس وقت خالی ہوئی تھی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جنہوں نے دو نشستوں بڈگام اور گاندربل سے چناؤ لڑا تھا اور دونوں پر کامیابی حاصل کی تھی، نے بعد میں گاندر بل نشست کو بر قرار رکھا تھا اور بڈگام نشست سے مستعفی ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ بڈگام سال 1962 سے نیشنل کانفرنس کا گڑھ رہا ہے سوائے 1972 میں جب کانگریس امیدوار نے اس سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ نیشنل کانفرنس سے وابستہ رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے 2002، 2008 اور 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بڈگام سیٹ سے کامیابی حاصل کی جبکہ عمر عبداللہ نے 2024 میں یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس حلقے میں جو 17 امیدوار میدان میں ہیں ان میں نیشنل کانفرنس کے آغا محمود اور پی ڈی پی کے آغا سید منتظر خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کے درمیان کانٹے کی ٹکر متوقع ہے۔





