حق، عشق، اور اصلاحِ معاشرہ کا پیغام دیتی ہے حقیر کی شاعری: مقررین
شوکت ساحل
سرینگر :مومن آباد، باغات کنی پورہ میں 14ستمبر بروز اتوار کو مومن آباد باغات کنی پورہ میں وادی کے معروف شاعر حقیر سید عبدالعزیز اندرابی کے شعری مجموعے ’چھ انبرس پَھلی تہ گزراﺅتھ‘ کی رسمِ رونمائی انجام دی گئی۔ اس بامعنی اور روحانی رنگ لیے تقریب میں ادیبوں، قلمکاروں، دانشوروں، صوفی شخصیات، سیاسی و سماجی رہنماوں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی صدارت معروف براڈکاسٹر اور قلمکار عبد الاحد فرہاد نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے معروف محقق اور دانشور پروفیسر فاروق فیاض شریک تھے۔ مہمانِ ذی وقار کے طور پر ڈاکٹر غلام نبی حلیم موجود تھے۔ تقریب کی نظامت معروف صحافی رشید راہل نے انجام دی۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر فاروق فیاض کا تبصرہ:پروفیسر فاروق فیاض نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’حقیر سید عبدالعزیز اندرابی کی شاعری ان صوفی شعراءکے لیے مشعلِ راہ ہے جو آج کے دور میں عقیدت، روحانیت اور صوفیانہ فکر کے درمیان الجھ کر رہ گئے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ:’تخلیقی رویے مسلسل تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ چاہے ہم تخلیقی اظہار کی بات کریں یا فکری رجحانات کی، ہمیں ان کے تاریخی پس منظر میں جاکر ان کی بنیادوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
‘پروفیسر فیاض کے مطابق:’حقیر کی شاعری عام روایتی شاعری سے مختلف ہے۔ اسے سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے قاری میں تخلیقی اعتماد اور فکری وسعت کا ہونا ضروری ہے۔‘انہوں نے عقیدتی اور صوفیانہ شاعری کے فرق پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:’عقیدتی شاعری میں تہارت، مرکزیت، وعدہ بندی اور اعتباریت کی خصوصیات ہونی چاہئیں،جبکہ صوفیانہ شاعری کا اصل محور عشق ہوتا ہے، جو انسان کو حق تک پہنچانے کا وسیلہ بنتا ہے۔‘

ڈاکٹر غلام نبی حلیم کی گفتگو:ڈاکٹر غلام نبی حلیم،جنہوں نے اس شاعری مجموعے کو ترتیب بھی دیا ہے، نے کہا:’حقیر سید عبدالعزیز کی شاعری میں معاشرتی اصلاح، روحانی بالیدگی اور فکری بیداری کے عناصر نمایاں ہیں۔ ان کا کلام ایک پیغام ہے، جو قاری کو خود شناسی، سماجی شعور اور روحانی ارتقاءکی طرف مائل کرتا ہے۔‘
صدارتی خطاب: تقریب کے صدر عبد الاحد فرہاد نے کہا:’ادیب معاشرے کا اصل آئینہ ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف مشاہدہ کرتا ہے بلکہ لفظوں کے ذریعے سماج کے چہرے کو آئینے میں دکھانے کی جرات بھی کرتا ہے۔حقیر کا کلام اس آئینے کا عکس ہے جو داخلی سچائیوں اور روحانی بلندیوں کا مظہر ہے۔‘

دیگر مقررین کے تاثرات:براڈکاسٹر شمشاد کرالہ واری اور معروف ادیب غلام محمد ہمدرد نے کہا کہ:’یہ شعری مجموعہ نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس میں ایک ایسا فکری توازن اور روحانی پیغام ہے جو آج کے دور میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔‘

تقریب کی جھلکیاں:تقریب کا آغاز حافظ مولانا فاضل اندرابی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔معروف شاعر محمد سید شبنم نے حقیر سید عبدالعزیز کا کلام دلنشین انداز میں پیش کیا، جسے سامعین نے بہت سراہا۔تقریب میں عبدالغنی قدوسی، محمد شفیع راتھر اور دیگر اہلِ قلم کی شرکت قابلِ ذکر رہی۔

شاعر کا اظہارِ تشکر:آخر میں شاعر حقیر سید عبدالعزیز اندرابی نے تمام مہمانان، منتظمین، مقررین اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:’یہ تقریب میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ میری شاعری کا مقصد صرف الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ روح کی روشنی کو الفاظ میں ڈھال کر قاری کے دل تک پہنچانا ہے۔ آپ سب کی شرکت میرے لیے حوصلہ افزائی ہے۔‘





