ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

سپریم کورٹ 10 جولائی کو بہار کی ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے خلاف دائر عرضیوں کی کرے گا سماعت

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ وہ بہار کی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہرائی سے نظرثانی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی صداقت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر 10 جولائی کو غور کرے گی۔
جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس جوائےمالیا باگچی کی تعطیلاتی بنچ نے اس معاملے کی جلد سماعت کے لیے عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ عدالت جمعرات کو اس معاملے پر غور کرے گی۔

بہار میں نومبر میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ اس سے پہلے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہرائی سے نظرثانی کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ رضاکار تنظیمیں بھی نظر ثانی کے لیے مقررہ وقت سمیت عملی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کھل کر اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ووٹروں کی بڑی تعداد اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتی ہے۔

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا، این جی اوز – ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز، پی یو سی ایل اور سماجی کارکن یوگیندر یادو سمیت دیگر نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے 24 جون، 2025 کے فیصلے کی صداقت کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔
درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم آئین کے آرٹیکل 14، 19، 21، 325 اور 326 کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور ووٹرز کے رجسٹریشن رولز 1960 کی شق 21 اے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ان کا استدلال تھا کہ اگر اس حکم کو منسوخ نہیں کیا جاتا ہے تو یہ من مانی اور مناسب عمل کے بغیر لاکھوں ووٹروں کو اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے سے محروم کر سکتا ہے۔ اس سے ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اور جمہوریت متاثر ہو سکتی ہے، جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img