برازیلیا: برازیل کی سپریم کورٹ نےسابق صدر جیر بولسونارو پر 2022 کے انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی سازش کے الزامات کو خارج کرنے کی کوشش کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔
مسٹر بولسنارو اور سات دیگر پر صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے ہارنے کے بعد انہیں اقتدار میں برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
دفاعی وکلاء نے دلیل دی کہ ان کے مؤکلوں کو اہم شواہد تک رسائی سے محروم رکھا گیا اور انہیں سیاسی طور پر محرک تحقیقات کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ الزامات کو الگ الگ مقدمات میں تقسیم کیا جائے۔
کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس الیگزینڈر ڈی موریس نے کہا کہ دفاع کے پاس شواہد تک مکمل رسائی حاصل تھی اور انہوں نے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔ پانچ ججوں کے پینل نے تمام تجاویز کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے کیس سے تین ججوں کو ہٹانے کی درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا اور کیس کو سنبھالنے کے لیے پینل کے اختیار کی توثیق کی۔
مسٹر بولسنارو نے صبح کے اجلاس میں مختصر طور پر شرکت کی، لیکن میڈیا سے بات کیے بغیر چلے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ سابق صدر 2019-2023 تک عہدے پر تھے۔ اس مقدمے میں نامزد دیگر افراد میں ان کے دور حکومت کے سابق فوجی کمانڈر اور سابق سیکیورٹی چیف شامل ہیں۔
اٹارنی جنرل پاؤلو گونیٹ کے ذریعے فروری میں دائر کیے گئے الزامات میں مسٹر بولسونارو پر ایک ایسے گروپ کی قیادت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جس نے مبینہ طور پر ان کی انتخابی شکست کے بعد بغاوت کی کوشش کی تھی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے انتخابات کو الٹنے اور بولسونارو کو عہدے پر برقرار رکھنے کی سازش کی۔
عدالت بدھ کو الزامات کا جائزہ لینا جاری رکھے گی اور اگر الزامات قبول کر لیے جاتے ہیں، تو مدعا علیہان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔
