ہفتہ, جنوری ۱۰, ۲۰۲۶
-2.7 C
Srinagar

میرواعظ کو مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی جامع مسجد میں خصوصی دعا کی قیادت کی اجازت نہیں دی گئی

سرینگر:؍میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے وادی میں جاری غیر معمولی خشک موسمِ سرما کے پیش نظر جامع مسجد سرینگر میں بارش اور برفباری کے لیے خصوصی اجتماعی دعائوں کا اعلان کیا تھا، تاہم مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی حکام نے انہیں جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی جس کے نتیجے میں وہ ان اہم اور خصوصی دعاو ¿ں کی قیادت سے محروم رہے۔

میرواعظ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ”ایک اور جمعہ، اور ایک بار پھر حکام نے مجھے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس طرح کی بار بار کی پابندیاں نہایت تکلیف دہ ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ میں اس غیر معمولی خشک موسمِ سرما میں بارش اور برفباری کے لیے اجتماعی دعاﺅں کی پیشوائی نہ کر سکا۔ ہماری دعائیں ہماری طاقت ہیں اللہ انہیں قبول فرمائے۔“

میرواعظ کی نظر بندی کے باوجود جامع مسجد سرینگر کے امامِ حی سید احمد سعید نقشبندی نے بارش اور برفباری کے لیے خصوصی دعاﺅں کی پیشوائی کی جس میں بڑی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی اور رقت آمیز آہ و زاری اور سسکیوں کے درمیان اللہ تبارک وتعالیٰ سے باران رحمت اور برفباری کی دعا کی۔

جناب نقشبندی نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ میرواعظ کشمیر کو نظر بند رکھ کر دعا جیسے خالصتاً مذہبی اور انسانی عمل کو بھی طاقت کے زور پر محدود کیا جا رہا ہے جو عوام کے مذہبی جذبات اور ضمیر کو شدید مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

ادھر میرواعظ نے مرحوم میرواعظ مولانا یٰسین ہمدانی کی اہلیہ کے انتقال پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جنازے میں شرکت اور اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے اجازت طلب کی تھی، تاہم انہیں اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ میرواعظ نے مولانا ریاض ہمدانی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے مرحومہ کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img