جمعرات, اپریل ۳, ۲۰۲۵
17.6 C
Srinagar

لفٹینٹ گورنر نے راج بھون میں بہار دیوس کے جشن میں شرکت کی

قدیم زمانے سے ہی بہار اپنی روحانیت ، تاریخ اور متحرک ثقافت کیلئے جانا جاتا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر
جموں /لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے جموں میں جموں و کشمیر راج بھون کی میز بانی میں بہار کے دن کی تقریبات میں شرکت کی ۔ لفٹینٹ گورنر نے اس موقع پر بہار کے لوگوں کو اپنی دل کی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ قدیم زمانے سے ہی بہار اپنی روحانیت ، بھر پور تاریخ اور متحرک ثقافت کیلئے جانا جاتا ہے ۔ مگدھا بہار کا بنیادی حصہ تھا جو تعلیم اور ثقافت کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پہلی سلطنت بہار میں موریہ سلطنت نے متحدہ ہندوستان قائم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ، ثقافت ، سائنس ، ادب ، کاروباری اداروں سے لیکر روحانیت تک شاید ہی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ موجود ہو جہاں بہار کے لوگوں نے اپنے جدید نظریات اور سخت محنت سے اپنا نشان نہیں چھوڑا ہو ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے بہار کی ثقافتی ، تعلیمی اور روحانی میراث کو اجاگر کیا اور ریاست کی عظیم شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا بابا بیجناتھ دھام غیاء ، وشنو پد مندر ، جانکی مندر ، بودھ گیا ، تخت شری ہرمندر صاحب جی ایک ہی ریاست میں کوئی الہی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قدیم زمانے میں بہار اعلیٰ تعلیم کا ایک بڑا مرکز بن گیا تھا ، پوری دنیا کے طلباء نالندا یونیورسٹی اور وکرمشلا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے آئے تھے ۔ نالندا یونیورسٹی کی لائیبریری کو دنیا کی سب سے بڑی لائیبریری سمجھا جاتا تھا ۔ بدھ مذہب کی زیارت گاہوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں بودھ گیا ، راج گیر اور گرڈھا کوٹا شامل ہیں جہاں مہاتما بدھ نے اپنے بیشتر خطبے دئیے تھے ۔
بہار کوادب کے شعبے میں سب سے زیادہ خوشحال ریاستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے ۔ جدید دور میں چانکیہ ، بنبھاٹہ ، آریا بھٹہ ، ودیاپتی سے فینیشور ناتھ رینو ، رامدھاری سنگھ ڈنکر اور بابا ناگ ارجن سے لے کر بہار عظیم مصنفین کی کرم بھومی رہا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے بہار کے ترقیاتی سفر اور ہندوستان کی ترقی میں اس کے تعاون پر بھی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آزادی کے بعد بہار کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہ ملک کی سب سے ترقی یافتہ ریاستوں میں سے ایک تھی ۔ پہلے پانچ سالہ منصوبے کا مسودہ جولائی 1951 میں تیار کیا گیا تھا اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران ملک میں صرف تین خطے بہار ، ممبئی اور چنئی چھوٹی صنعتوں کیلئے ضروری تربیت فراہم کرنے میں بہترین تھے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ کئی دہائیوں سے بہار نے بڑی تعداد میں آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور دیگر انتظامی خدمات کے افسران تیار کرنے کی شاندار روائت کو برقرار رکھا تھا جنہوں نے ملک سازی میں بے حد شراکت کی ہے اور کئی نسلوں کو ترغیب دی ہے۔ لفٹینٹ گورنر نے امید کی کہ بہار کے عوام ترقی یافتہ بہار اور ترقی یافتہ ہندوستان کیلئے کام کرتے رہیں گے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا بہار 21 ویں صدی میں ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے ۔ آج بہار نہ صرف ترقی یافتہ ہندوستان میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرا ہے بلکہ وہ صنعتی ترقی کے معاملے میں ترقی یافتہ ریاستوں کے ساتھ بھی مقابلہ کر رہا ہے ۔ میں اس مبارک زمین کے لوگوں کی اچھی صحت ، فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے دعا کرتا ہوں ۔ سینئر عہدیدار، مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہ ، طلباء اور جے اینڈ کے یو ٹی میں رہائش پذیر بہار کے رہائشی اس موقع پر خصوصی مدعو تھے ۔

Popular Categories

spot_imgspot_img