200 یونٹ مفت بجلی، جموں و کشمیر کی سیاسی، قانونی حیثیت کی بحالی کا وعدہ:عمر عبداللہ
سرینگر /جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر کی سیاسی اور قانونی حیثیت کی بحالی کیلئے جدوجہد کرے گی اور اگر ان کی پارٹی نے 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔سی این آئی کے مطابق سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران انتخابی منشور2024کی نقاب کشائی کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبد اللہ نے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا گیا تو وہ سیاسی اور قانونی حیثیت کی بحالی کیلئے جدوجہد کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کرتے ہیں اگر وہ اقتدار میں آئے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی لوگوں کے حقوق کیلئے درست ہوگی اور سپریم کورٹ کو حکومت ہند کے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے وعدے کے بارے میں یاد دلائے گی۔ انہوں نے کہا ”اگر حکومت ہند اس میں تاخیر کرتا ہے، تو ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور اسے مرکز کے وعدے کے بارے میں یاد دلائیں گے۔ “ منشور کی مزید وضاحت کرتے ہوئے عمر عبد اللہ نے کہا کہ پارٹی عوامی تقسیم کے نظام کو مزید مضبوط کرنے اور لوگوں کو راشن ڈپو سے چینی اور مٹی کا تیل حاصل کرنے کو یقینی بنانے کا وعدہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کرتے ہیں جو گھناو¿نے جرائم میں ملوث نہیں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عمر نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کھل کر الیکشن نہیں لڑے گی۔ عمر نے یہ کہتے ہوئے لوگوں سے تعاون بھی طلب کیا کہ امید ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ اگلے پانچ سالوں تک نیشنل کانفرنس کو ان کی خدمت کا موقع دیں گے۔