اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اچھ گوزہ کلر علاقے میں بادل پھٹنے سے سیلابی ریلے آگئے جن سے علاقے کے ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔
انہوں نے کہا کہ پانی سے سڑکیں اور گلی کوچے اور صحن زیر آب آگئے۔
مقامی لوگوں کے مطابق پانی کئی رہائشی مکانوں کے اندر داخل ہوا جس سے مکینوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق وسطی کشمیر کے کنگن علاقے میں بھی بادل پھٹنے یا بھاری بارشوں کے بعد حسن آباد کی سڑک زیر آب آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی سے گلی کوچے اور سڑکیں زیر آب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھاری باڑ سے سڑکوں پر مٹی کا ملبہ بھی جمع ہوا ہے جس نے لوگوں کے عبور و مرور کو از بس مشکل کر دیا ہے۔
ادھر متعلقہ محکموں کی ٹیمیں صورتحال پر کڑی نظر گذر رکھی ہوئے ہیں
اطلاعات کے مطابق بارشوں کی وجہ سے شہر سری نگر کے کئی علاقوں کی سڑکیں بھی زیر آب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان سڑکوں، جو سڑکیں کم جھیل جھرنے زیادہ نظر آر ہے ہیں، پر لوگوں خاص کر عمر رسیدہ افراد، خواتین اور بچوں کا چلنا پھرنا مشکل ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر گاڑیاں چلنے سے اٹھنے والی چھینٹیں دور دور تک چلنے والے مسافروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں۔
دریں اثنا محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر میں 18 سے 20 اگست تک کئی مقامات پر صبح اور شام کے وقت ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کے مختصر مرحلوں کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں 21 سے 23 اگست تک کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ جموں خطے میں بھاری بارشوں سے بعض علاقوں میں اگلے تین دنوں کے دوران سیلابی ریلے، لینڈ سلائینڈنگ، مٹی کے تودے اور چٹانیں کھسک آنے کے خطرات ہیں۔