ہم سفر……………… (افسانہ) 

ہم سفر……………… (افسانہ) 
عابد حسین راتھر
عُمیر اور عُمر سہ پہر کے وقت کسی کام کے لیے بازار گئے۔ ایک ہی گاؤں میں رہنے کی وجہ سے دونوں کے بیچ اچھی خاصی دوستی تھی۔ وہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ بازار جاتے تھے۔ دونوں میں سے ایک کو کوئی کام ہوتا تو دوسرا ساتھ جاتا۔ آج بازار میں سامان خریدنے میں وہ اتنے مصروف ہوگئے کہ انھیں وقت کا پتا ہی نہیں چلا کہ کب شام ہوگئی اور اندھیرا چھا گیا۔ خریداری ختم کرنے کے بعد گھر واپس آنے کیلئے انھیں گاڑی ہی نہیں مل رہی تھی۔ بہت ڈھونڈنے کے بعد انھیں آدھے راستے کیلئے ایک گاڑی ملی۔ موقع کو غنیمت جان کر دونوں گاڑی میں چڑھ گئے اور گاڑی والے نے انھیں آدھے راستے میں ہی چھوڑا۔ تقریباً شام کے نو بج چکے تھے لہذا گھر تک کسی دوسری گاڑی کا ملنا ناممکن تھا۔ دونوں نے طے کیا کہ بہتر ہے گھر کی طرف پیدل سفر شروع کریں، دیر سے ہی صیح لیکن گھر تو پہنچ جائیں گے۔ دونوں رات کے اندھیرے میں سنسان راستے پر چل رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے ایک چھوٹی گاڑی آئی اور ان کے پاس رُک گئی۔ گاڑی کے ڈرائیور نے کھڑکی کا شیشہ اتار کر عُمیر کو آواز دی۔ عُمیر نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا کہ گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ اور چار سواریاں ہے اور ڈرائیور اُس کا ایک پرانا دوست ہے جو ان کے گاؤں کے راستے سے ہی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔
عُمیر صاحب، سب خیریت تو ہے، آپ دونوں اتنی رات کو کہاں سے پیدل آرہے ہو۔۔۔ ڈرائیور نے عُمیر سے پوچھا۔
عُمیر نے ڈرائیور کو ساری کہانی سنائی۔ جواباً ڈرائیور عُمیر سے کہنے لگا۔۔۔ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں، آپ میں سے ایک میری گاڑی میں سوار سکتا ہے۔ اس میں ایک کیلئے جگہ نکال سکتے ہیں۔ آپ چاہو تو آپ ہمارے ساتھ آسکتے ہو۔
عُمیر نے دل میں سوچا کہ اندھیرے میں اپنے دوست کو آدھے سفر میں اکیلا چھوڑنا بلکل بھی مناسب نہیں ہوگا۔ اُس نے ڈرائیور کو انکار کرکے  فوراً جواب دیا۔۔۔ نہیں، نہیں جناب،  آپ جائیں۔ میں اپنے دوست کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ ویسے بھی اب ایک ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ ہی تو ہے۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے کرتے پیدل ہی سفر کریں گے۔
یہ سن کر ڈرائیور آگے بڑھنے لگا اور عُمیر اور عُمر نے بھی اپنا پیدل سفر جاری رکھا۔ دونوں نے تقریباً ابھی آدھے کیلومیٹر کی مسافت طے کی کہ ایک موٹر سائیکل والا اِن کے پاس آکر رُک گیا جس کے پیچھے ایک اور شخص موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ غور سے دیکھنے پر دونوں کو معلوم ہوا کہ موٹر سائیکل والا اِن کے گاؤں کا ہی ایک شخص ہے۔ علیک وسلیک اور دیر رات کو پیدل سفر کرنے کی وجہ معلوم کرنے کے بعد موٹر سائیکل والے نے ان لوگوں سے کہا کہ ہم پہلے سے ہی موٹر سائیکل پر دو شخص سوار ہیں لہذا آپ دونوں میں سے ایک کو میں لفٹ دے سکتا ہوں کیونکہ موٹر سائیکل پر چار کی گنجائش نہیں ہے اور موٹر سائیکل بھی خستہ حالت میں ہے لہذا یہ چار سواریوں کا وزن بھی نہیں اُٹھا سکتا ہے۔
یہ سن کر عُمر نے عُمیر سے مخاطب ہو کر کہا۔۔۔ عُمیر بھائی، میں پیدل چل کے بہت تھک چُکا ہوں۔ میری ٹانگیں جواب دے چُکی ہے۔ میں اب اور پیدل نہیں چل سکتا۔ لہذا میں موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہوں۔ آپ کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب گھر تک تھوڑا ہی سفر باقی ہے۔ آپ آرام سے چلنا، جب تک آپ گھر پہنچ نہیں جاتے میں فون پر آپ کا حال پوچھتا رہوں گا۔
عُمر کی باتیں سن کر عُمیر شَشدَر ہوگیا۔ اس سے پہلے کہ عُمیر اس کے جواب میں کچھ کہتا عُمر موٹر سائیکل پر چڑھ کے آگے نکل چکا تھا۔ عُمیر اب اکیلا اندھیرے راستے پر کھڑا خود سے کہنے لگا کہ اب تنہا سفر کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے گھر کی جانب پیدل قدم بڑھاتے ہوئے اللٌٰہ سے دعا کرنے لگا کہ کسی کو ایسا ہم سفر عطا نہ کرنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.