زمرودہ بانو:زائد از ایک ہزار خواتین کو روز گار فراہم کرنے والی کشمیری خاتون

زمرودہ بانو:زائد از ایک ہزار خواتین کو روز گار فراہم کرنے والی کشمیری خاتون

سری نگر: جنوبی کشمیر کے مشہور قصبہ قاضی گنڈ کے دور افتاد علاقہ کنڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنی محنت اور لگن سے مقامی دستکاری اور سلائی کے پیشے کو خواتین کو اقتصادی لحاظ سے با اختیار بنانے کا ایک موثر وسیلہ بنا دیا ہے۔
زمرودہ بانو نامی یہ خاتون مختلف ڈیزائینوں کے کریول پردے، بیڈ شیٹ، پوچ، بیگ وغیرہ جیسے خوشنما چیزیں بنانے کی دستکاری سے وابستہ ہے اور وہ اس پیشے سے زائد از ایک ہزار تعلیم یافتہ خواتین کو روز گار فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے یو این آئی کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کہا: ‘نو عمری میں ہی میں نے یہ ہنر سیکھا تھا تاہم سال 1991 سے میں باقاعدہ اس کے ساتھ وابستہ ہوں اور بے شمار لڑکیوں کو اس ہنر میں تربیت دی ہے’۔
ان کا کہنا ہے: ‘اس وقت زائد از ایک ہزار خواتین جن میں سے بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اس پیشے کو اختیار کرکے اپنے گھروں میں بیٹھے ہی اچھا خاصا روز گار کما رہی ہیں’۔
موصوف دستکار نے کہا کہ ضلع اننت ناگ اور کولگام کے درجنوں دیہات میں میرے سینٹر چل رہے ہیں جن میں لڑکیاں کام کرکے اپنا روز گار کما رہی ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ان خواتین میں سے کچھ شادی شدہ بھی ہیں ، کچھ ان پڑھ بھی ہیں تاہم ان میں سے بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں’۔
ان کا کہنا ہے: ‘یہ ہنر سیکھنے کے بعد میں نے اپنی پوری توجہ اسی کی طرف مبذول کی اور سب سے پہلے دیالگام اننت ناگ میں پہلا سینٹر قائم کیا اور اس کے بعد وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کاررواں بھی بڑھتا گیا’۔زمرودہ کا کہنا ہے کہ وہ اس دستکاری کو زیادہ سے زیادہ علاقوں میں متعارف کرنے کے لئے محو جد وجہد ہے تاکہ خواتین خا اقتصادی لحاظ سے خود مختار بن سکیں اور کسی پر منحصر نہ رہ سکیں بلکہ دوسروں کی مدد کرسکیں۔
انہوں نے کہا: ‘یہ خواتین کے لئے روزی روٹی کمانے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور ایک موثر اور اچھا وسیلہ بھی ہے اس سے وہ گھر کی مدد لینے کے بجائے والدین کے گھریلو خرچوں کا بوجھ کم کر سکتی ہیں’۔ان کا کہنا ہے: ‘دور افتادہ دیہی علاقوں میں ایسے سینٹروں کی زیادہ ضرورت ہے کیوںکہ وہاں خواتین کے لئے روز گار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘ہم مختلف ڈیزائنوں کے پردے، بیڈ شیٹ وغیرہ تیار کرتے ہیں جنہیں لوگ نہ صرف اپنے گھروں کی زیبائش کے لئے شوق سے خریدتے ہیں بلکہ ہمارے یہاں بڑی عبادت گاہوں اور خانقاہوں میں بھی یہ پردے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں بھی اپنے گھروں کو ایسی خوشنما چیزوں سے سجانے کا رجحان بڑھ رہے جو اس دستکاری کے فروغ اور کامیابی کی ایک نوید ہے۔
موصوفہ نے کہا کہ پہلے پہل مجھے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ پورے حوصلے سے آگے بڑھتی رہی۔انہوں نے کہا: ‘حکومت نے بھی میری مدد کی جس سے میں مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی’۔ان کا کہنا ہے: ‘ایمانداری سے جو کام کیا جائے اس کو کبھی زوال نہیں آسکتا ہے ہاں کمائی کم ہوسکتی ہے لیکن اس میں برکت بھی ہے اور اس کو ختم ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہم اپنے ہی کارخانے سے مال بیچتے ہیں اور پھر بیوپاری اس مال کو مختلف علاقوں میں فروخت کرتے ہیں’۔ان کا کہنا ہے: ‘میں خود اس کام سے مطمئن ہوں اور جو بھی میرے دیگر ساتھی ہیں وہ بھی اس کام کے ساتھ خوش ہیں’۔
زمرودہ کا کہنا ہے کہ ہم یہ سارا کام ہاتھوں سے کرتے ہیں لیکن مشینوں کی آمد سے یہ متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ میشنوں سے تیار ہونے والے مال سے اصلی مال کو نقصان پہنچا ہے جس کا براہ راست اثر دستکاروں پر پڑ رہا ہے۔زمرودہ کو نمائشوں میں بھی اپنی دستکاری کی نمائش کرنے کے دعوت نامے موصول ہوتے ہیں لیکن وہ ان میں جانے سے گریز کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘مجھے نمائشوں میں جانے کے دعوت نامے ملتے ہیں لیکن میں ان میں جانا پسند نہیں کرتی ہوں، ہم اپنے گھر میں ہی مال رکھتے ہیں اور خریدنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ اس کی خرید و فروخت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے’۔
ان کا کہنا ہے: ‘سرکار ر پڑھے لکھے کو تو نوکری فراہم نہیں کر سکتی ہے لیکن یہاں جو ہماری مقامی دستکاریاں ہیں ان میں لاکھوں لوگوں کو روز گار فراہم کرنے کی گنجائش ہے صرف ہمیں ہمت کا کمر باندھ کر کسی قسم کی کوئی شرم محسوس کئے بغیر ان کو اپنانا ہے’۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.