غفلت شعاری۔۔۔

غفلت شعاری۔۔۔
جموں کشمیر میں آئے روزٹریفک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے، جن کے دوران نہ صرف مال و جان کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ ان حادثات کی وجہ سے ہزاروں وہ لوگ بھی مثاتر ہو رہے جو ٹریفک حادثات میں جان بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ ہوتے ہیں جن کو چلانے والے یہی لوگ ہوتے ہیں ۔بچے یتیم ہوتے ہیں ،اُن کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے، والدین کماﺅ بیٹوں سے محروم ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں جہاں ہماچل کے پہاڑی علاقے میں نصف درجن افرد ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہوگئے ،جو وہاں محنت مزدوری کرنے گئے تھے، وہیں گذشتہ روز سرینگر ۔لہیہ شاہراہ کے زوجیلا مقام پر ایک ایسا ہی دلدوز حادثہ پیش آیا جس میں ایک مقامی ڈرائیور اور4سیاح جاں بحقہوگئے۔اس سے قبل ڈوڈہ میں بھی ایک مسافر بس کو حادثہ پیش آیا جس دوران تین درجن مسافر ازجان ہوگئے تھے۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی بھی جاندارمنہ نہیں موڑ سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ موت کو دعوت دے کر خود اس کے گلے لگ جاتے ہیں۔شاید یہ وجہ ہے کہ دین اسلام میں خود کشی کو حرام قراد دیا ہے اوراس سے نجات مانگنے کی دعاکی ترغیب بھی سکھائی ہے۔جہاں تک ٹریفک حادثات کا تعلق ہے ،یہ ڈرائیوروں کی غفلت شعاری اور لاپرواہی سے ہوتے ہیں یا پھر حکام کی لاپرواہی سے۔کہیں اس طرح کے حادثات میں سڑکوں کی خرابی اور بدحالی ذمہ دار ٹھہرائی جاتی ہے تو کہیں ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے سے اس طرح کے حادثات وقوع پذیر ہورہے ہیں ۔ٹریفک حکام بار بار ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے کے خلاف مُہم چلاتے ہیں لیکن چند دنوں کے بعد پھر وہی کہانی دوہرائی جاتی ہے۔
ٹریفک حکام شہرسرینگر کے چند ایک علاقوں میں موٹر سائیکل سواروں کو ہلمٹ نہ پہننے پر جُرمانہ عائد کرتے ہیں اور کبھی پیٹرول پمپوں کے مالکان کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ بغیر ہلمٹ کے بائک چلانے والوں کو پٹرول نہ دیا جائے۔پھر بھی یہ جوان بنا ہلمٹ کے بائک چلاتے ہیں اور وہ بھی تیز رفتاری کے ساتھ اور اسی طرح حادثات رونما ہوتے ہیں ۔جہاں تک مسافر گاڑیوں کا تعلق ہے وہ بھی بار بار نصیحت کرنے کے باوجو د اور لورڈ کرتے ہیں اور ٹریفک قوانین کو بالائے طاق رکھ کر تیز رفتاری سے گاڑیاں چلاتے ہیں اور ٹریفک پولیس کے افرد دیکھ کر رفتار کم کرتے ہیں یا سیٹ بلٹ پہنتےہیں ۔اصل میں کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت قوم کے شعور پر منحصر ہوتی ہے۔جب تک لوگوں میں یہ شعور پیدا نہ ہو جائے گا کہ انسانی زندگی کس قدرقیمتی ہے، تب تک کسی بھی ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھنا بے سود ہے۔ٹریفک حکام کو بھی چا ہیے کہ وہ ایسی بیداری مہم چلائےں جس سے سماج باخبر ہو جائے ۔علماءاورذی حس لوگوں کی بھی زمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ یہ زندگی کس قد ر قیمتی اور انمول ہے ،جو صرف ایک بار ملتی ہے نہ کہ بار بار۔تب جاکر یہ ممکن ہے کہ سڑکوں اور شاہراہوں پر گاڑی چلانے والے ڈرائیور حضرات انسانی جان کی حفاظت کرپائیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.