گریز وادی بھی روشن۔۔۔۔

گریز وادی بھی روشن۔۔۔۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں انسان مشینوں کے سہارے آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آپس میں مل جُل کر انٹر نیٹ اور شوشل میڈیا کے ذریعے سے تجارت اور تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہر طرح کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجیکے اس اہم اور جدید دور میںبجلی کا ہونا اتنا ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لئے ہوا کا ہونالازمی ہے۔ وادی کشمیر میں ایک طرف جہاں پاور سپلائی کی کمی نظر آرہی ہے، وہیں دوسری جانب سرکار نے ایک سنگ میل کے طور گریز وادی کے کوپہلی مرتبہ پاور سپلائی سے روشن کیا۔اس وادی کو گرڈ اسٹیشن کے ساتھ جوڑا گیا ۔وادی گریز جو کہ ایک سرحدی علاقہ ہے، جس کی آبادی لگ بھگ 30ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔

یہ علاقہ اکیسویں صدی میں بھی بجلی سے محروم تھا ۔ ملک کی آزادی کے بعد جموں وکشمیر بھی درجنوں حکمران آئے لیکن کسی بھی حکومت یا حکمران نے ان لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔انہیں فوج کی بدولت کبھی کبھار مخصوص جنریٹر کے ذریعے بجلی سپلائی فراہم کی جاتی تھی۔یہ پہلا موقع ہے ،جب اس وادی میں بود و باش کر رہے لوگوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور انہیں گرڈ اسٹیشن کے ساتھ جوڑا گیا۔بجلی حکام کے مطابق اگر چہ ابتدائی مرحلے میں گریز وادی کے چند ایک علاقوںکے صارفین کو بجلی کنکشن فراہم کئے گئے ہیں ۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت کے دوران وادی گریز میں رہائش پذیر پوری آبادی کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ جموں کشمیر کی موجودہ انتظامیہ اور مرکزی حکومت کے سر اس اہم قدم کا سہراجاتاہے جس کی ہر سطح پر سراہانہ کی جارہی ہے۔

اس اقدام کوتاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ وادی کشمیر کے دوردراز پہاڑی علاقے جو کہ سیاحتی مرکز بنتا جارہا ہے ،کو آزادی کے 76سال بعد یہاں کے عوام کو بجلی فراہم کی گئی۔اب جبکہ مرکزی حکومت اور ایل جی انتظامیہ اس حوالے سے شدومد سے کام کررہی ہے کہ ملک کے ہر شہری کو بنیادی سہولیات جیسے پانی ،بجلی اور سڑک دستیاب ہونی چاہیے، انہیں اس حوالے سے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وادی میں روز بروز پانی کے ذخیرے کم ہوتے جارہے ہیں، جن کی بدولت بجلی کی پیداوار میں بھی کمی آرہی ہے۔

لہٰذا سرکار اور انتظامیہ کو پن بجلی کے ساتھ ساتھ تھرمل بجلی گھروں کی تعمیر پراپنی توجہ مرکوز کرنی چا ہیے تاکہ زیاد ہ سے زیادہ بجلی کی پیداوار ہوسکے اور دن رات لوگوں کوبغیر کسی خلل کے پاور سپلائی بہم رہ سکے۔ کیونکہ موجودہ دور میں بغیر بجلی کے کوئی بھی کام بہتر ڈھنگ سے نہیں انجام دیا جا سکتا ہے ۔ علم و تربیت ،صنعت وتجارت کے ساتھ ساتھ باقی تمام شعبوں میںبجلی کی دستیابی سے ہی بہتر طریقے سے ترقی ممکن ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.