ہمدردی کا عالمی دن

ہمدردی کا عالمی دن

ہر سال عالمی سطح پر ہمدردی کا دن منایا جاتا ہے۔آج سے لگ بھگ 25برس قبل جاپان کے شہر ٹوکیو سے اس تحریک کی عَلم بلند کی گئی تھی تاکہ سماج میں مختلف قسم کے کمزور اور نادار لوگوں کی مدد کی جا سکے اور اُن کے ساتھ ہمدردی کا سلوک روا رکھا جاسکے۔اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو دنیا میں موجود تمام مذاہب سے وابستہ پیغمبروں ،اوتاروں اور دیگر اہم لیڈران نے ہزاروں ،سینکڑوں برس قبل ان تعلیمات کا درس دیا ہے اور اپنی اپنی اُمت اور ماننے والوں کو ایک دوسرے سے ہمدردری ،بھائی چارہ،اخوت اور مساوات کا درس دیا ہے اور سختی سے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب بھی دی ہے۔

اسی تعلیم و تربیت کو مدنظر رکھتے ہوئے شاعرنے بھی کیا خوب کہا ہے کہ ( درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔ ور نہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں)اصل میں کائنات کے مالک نے بنی نوع انسان کو ایک دوسرے کے لئے ہی بنایا ہے۔غالبا ان ہی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے وقت وقت پر آئے پیغمبروں ،اوتاروں ،ریشیوں ،منیوں اور سماجی لیڈران نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جیسا کہ ان عظیم ہستیوں سے متعلق تحریر کی گئی ،کتابوں سے پتہ چلتا ہے۔اب جب کہ عالمی سطح پر اس طرح کی سماجی ،اقتصادی اور انسانی زندگی بہتر بنانے سے متعلق مختلف موضوعات کے دن منائے جاتے ہیں پھر بھی دنیا بھر میں انسان ایک دوسرے کی خدمت اور ہمدردی کی بجائے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ہیں؟۔کیوں دنیا بھر میں روز بروز مسائل و مشکلات کا سامنا عام آدمی کو کرنا پڑ رہا ہے؟۔تحقیق سے یہ بات منکشف ہو رہی ہے کہ موجودہ دور کا انسان مذہبی بنیادوں پر اس لئے ایک دوسرے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے تاکہ وہ دنیاوی فائدہ حاصل کر پائے۔ ضرورت پڑ نے پرایک دوسرے سے ہمدردی نہیں کرتا ہے ،ایک دوسرے کا دل بہلانے کیبجائے ایک دوسر ے کا دل توڑ دیتا ہے۔

اصل میں موجودہ دور کا انسان کتابیں تو پڑھتا ہے لیکن ان میں موجود صرف اُن باتوں کو اپنے لئے استعمال کرتا ہے، جو اُس کی سوچ ،نظریہ اور من کے موافق ہوں ،باقی تعلیمات کو وہ سرے سے ہی خارج کرتا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ دور کا انسان مذہبی کتابوں میں درج باتوں کو حقیقی معنوں میں سمجھ نہیں پاتا ہے بلکہ وہ ان باتوں کو اپنے نظریہ اور ضرورت کے مطابق غلط تعبیر اور معنی کرتا ہے ،جو سراسر غلط او ر انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہو تا ہے۔اگر ہم واقعی دنیا میں انسانیت اور ہمدردی کی قندیلوں کو روشن کرنا چاہتے ہیں پھر ہمیں مذہبی تعلیمات کو بہتر ڈھنگ سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، تب جاکر دنیا میں آئے لاکھوں پیغمبروں ،اوتاروں ،خدا پرست انسانوں اور سماجی لیڈران کے مشن کو آگے بڑھا یا جا سکتاہے اور اس طرح وہ دن منانے کا حق بھی ادا ہو جائے گا جو ہم نے عالمی سطح پر متعین کر رکھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.