آئیے خوشیاں بانٹیں ۔۔۔۔۔

آئیے خوشیاں بانٹیں ۔۔۔۔۔

روشنیوں کا تہوار ملک بھر میں نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔پورے ملک میں چراغاں کیا گیا اورلوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے رہے او ر مٹھائیاں آپس میں تقسیم کررہے ہیں۔ اس موقعے پرکروڑوں روپے کے پٹاخے سر کئے گئے، اس طرح خوشی اور مسرت کا اظہار کیا گیا۔جہاں تک اس اہم مذہبی تہوار کا تعلق ہے، اس دن کو ہندوبرادری کے لوگ رام جی کے بن باس سے واپسی کی خوشی میں مناتے ہیں۔

جنہوں نے حقیقی معنوں میں بدی پر نیکی فتح رقم کی۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں جب جب لوگ اللہ کے فرمان سے منہ موڑ چکے تب تب پیغمبروں ،اوتاروں، صوفیوں اور ولیوں کی صورت میں شخصیات مبعوث ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بدی سے روک کر نیکی کی جانب دعوت دی اور اس طرح دنیا میں انسانیت کی قندیلیں روشن کیں۔جہاں تک ملک کے سیاسی ،سماجی،اقتصادی اور معاشرتی معاملات کا تعلق ہے اُن میں کمزوریاں نظر آرہی ہیں ۔آپسی بھائی چارے کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ،لوگ خرافاتی محفلوں میں مست و مگن ہو چکے ہیں اور اس طرح وہ وقت کا ضیاع بھی کرتے ہیں۔ایک جانب غریب بچہ کھانے پینے کے لئے ترس رہا ہے اور دوسری جانب امیر زادے ہزاروں ،لاکھوں روپے مختلف خرافات پر خرچ کرتے ہیں ۔ایک جاب سرکار غریب بچوں کی تعلیم و تربیت ،کھانے پینے اور کتابوں اور وردیوں کے لئے سرکاری خزانے سے رقومات صرف کرتے ہیں اور دوسری جانب ملک کے سرمایہ دار عیش و عشرت کےلئے زر کثیر خرچ کرتے ہیں ،جو رام جی اور دیگر اوتاروں اور پیغمبروں کی تعلیم ہرگز نہیں ہے۔

یہی حال مسلم برادری کا عیدین پر بھی ہوتا ہے اور عیسائی برادری کاکرسمس جیسے تہواروں پر ہوتا ہے۔ملک کے سرمایہ داروں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چا ہیے کہ کسی بھی تہوار پر وہ اپنے ارد گرد ہمسایوں کا خیال رکھیں ،اپنے سرمایہ میں سے کچھ رقم غریبوں ،محتاجوں اور مسکینوں کے لئے بھی مختص رکھیں تاکہ وہ بھی مذہبی تہواروں کی خوشیوں میں شامل ہو ں، جو کہ ان تہواروں کا اصل درس ہے۔

لوگوں کو روشنیوں کے اس تہوار سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور ان باتوں کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ اس تہوار کی خوشیاں منانے سے کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ بہت زیادہ پٹاخے سر کرنے سے ماحولیاتی آلودگی بھی نہ ہو جائے شاید اسی وجہ سے د ہلی ،جموں اور دیگر اہم شہروں میں پٹاخوں کی خرید و فروخت پر پابندی بھی لگائی گئی ہے اور پٹاخوں کو سر کرنے کو غیر قانونی عملقرار دیا گیا ہے۔

تہواروں کو سادگی کیساتھ منانے سے ہی تہواروں کے اصل مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔کسی بھی تہوار کے معنی خوشی ہی ہے ،تاہم خوشی مناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہخوشی منانے سے کسی کوتکلیف تو نہیں پہنچ رہی ہے ۔اس بات کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے،ہم ایکدوسرے سے تہواروں کی خوشیاں بانٹےں کیوں کہ خوشیاں بانٹنے سے کم نہیں ہوتیں بلکہ اور زیادہ حاصل ہوتی ہیں ۔آئیے خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.