بھارت بہترین رول ادا کرسکتا ہے

بھارت بہترین رول ادا کرسکتا ہے

اسرائیل۔ فلسطین جنگ نے ایک ایسا موڑ لیا ہے کہ اب یہ جنگ دو ملکوں کے درمیان نہیں رہی ہے بلکہ اس جنگ میں براہ راست دنیا کے بیشتر ممالک شامل ہورہے ہیں۔بارہ دنوں سے جاری اس جنگ کی وجہ سے اب تک سینکڑوںلوگ ہلاک ہوگئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں اسرائیل نے غزہ کے ایک اسپتال پر بمباری کی جس کے نتیجے میں لگ بھگ 500افراد جاںبحق ہوئے جن میں بچے بوڑھے ،مرد و خواتین شامل ہیں ۔اس حملے کی اگر چہ دنیا بھر میں مذمت کی گئی اور اس حملے کو جنگی قوانین کی خلاف روزی سے تعبیر کیاہے ۔تاہم اسرائیل کے وزیر عظم اس حولاے سے ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ۔بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھی اپنے ایکس ہینڈل پر اس حملے کی زبر دست مذمت کرتے ہوئے اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قدم اُٹھانے پر زور دیا ہے۔

جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، یہ دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے جس طرح اپنے آپ کو پیش کرتا ہے کہ وہ دنیا میں ٹیکنالوجی،تجارت اور جاسوسی کے لئے لحاظ سے اہم اور طاقتور ملک ہے ۔حماس کے حملے کے بعد اس دعوے کی پول کھل گئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اسرائیل کو اس حملے کی بھنک تک نہیں لگی۔جہاں تک طاقتور ہونے کا تعلق ہے، وہ کمزوروں پراپنا رعب نہیں جماتا ہے بلکہ کمزوروں کی مد د کرتا ہے۔بھارت جو کہ ایک طاقتور ملک کے طور پر ہر محاذ پر آگے بڑھتا جارہاہے، اپنے ہمسایوں کے ساتھ رحمدلی اور خوش اسلوبی سے پیش آتا ہے ،چہ جائے اس کے ہمسایہ ملک چین اور پاکستان اس ملک کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی بار بار کوششیں کرتے رہتے ہیںکیونکہ اس ملک کے قد آور لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھاکہ دوست بدلے جاسکتے ہیں لیکن ہمسایہ نہیں ۔اس قد آور لیڈ رکے نقش قدم پر چل کربھارت کے موجودہ وزیر اعظم بھی اپنے ہمسایہ مما لک کے ساتھ ہر قسم کے معاملات مذاکرات کے ذریعے سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ اس ملک کے پاس کافی تعداد میں فوج بھی ہے اور جنگی ساز وسامان بھی۔دشمنوں کے تمام غلط منصوبوں کو بھارت نہایت ہی ہوشیاری اور خوش اسلوبی کے ساتھ ناکام بنارہا ہے ،اس کے برعکس اسرائیل جس طرح کی جاریت سے کام لے رہا ہے، اس سے وہ دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا ہو جائے گا۔کیونکہ اس ملک کے ارد گرد لگ بھگ ایک درجن اسلامی ممالک ہیں کئی ممالک کی سرحد بھی اسرائیل کے ساتھ ملتی ہے ۔

لہٰذا اس ملک کے وزیر اعظم کو اپنا غرور چھوڑ کر فلسطین کے ساتھ جنگ کی بجائے مذاکرات کے میز پر آنا چاہئے اور فلسطین کو تسلیم کرنا چاہیے۔جہاں تک بھارت ،امریکہ،روس ،ایران اور برطانیہ کا تعلق ہے، وہ اس حوالے سے ایک اہم ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔بھارت کو سعودی عرب،ایران اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں، لہٰذا اس ملک کی درمیانہ داری زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے ۔اس ملک نے افغانستان ،عرب عمارات کے علاوہ یورپی ممالک میں اپنی سرمایہ کاری ،تہذیبی تبادلوں اور مختلف شعبوں میں شراکت داری سے اپنا نام اور اثر و رسوخ کمایا ہے۔ لہٰذا اس ملک کی مداخلت اسرائیل۔ فلسطین جنگ روکنے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے اور کامیابی کی صورت میں اسلامی ممالک میںبھارت کے عزت و وقار میں مزید اضافہ ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.