بی جے پی اقتدار میں آئی توچھتیس گڑھ کو نکسل ازم سے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا:وزیر داخلہ امیت شاہ

بی جے پی اقتدار میں آئی توچھتیس گڑھ کو نکسل ازم سے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا:وزیر داخلہ امیت شاہ

جگدل پور/کونداگاوں : وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر امیت شاہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست کو نکسل ازم سے مکمل طور پر آزاد کرایا جائے گا۔مسٹر شاہ نے آج جگدل پور اور کونڈاگاوں میں الگ الگ منعقدہ انتخابی میٹنگوں میں کہا کہ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد نکسل ازم پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے، لیکن چھتیس گڑھ میں یہ مسئلہ پوری طرح سے ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں ایک بار پھر کمل کے پھول کی حکومت بنائیں، ہم پورے چھتیس گڑھ سے نکسل ازم کا صفایا کریں گے، ہم اس ریاست کو مکمل طور پر نکسل ازم سے آزاد کرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بستر کا خطہ ایسا ہے کہ جب یہاں نکسلی تشدد ہوتا ہے تو یہاں کے قبائلی ہی مرتے ہیں۔ پولیس مرے تو بھی ہمارا قبائلی بھائی مرتا ہے اور اگر کوئی عام شہری بھی مرتا ہے تو قبائلی بھائی ہی مرتے ہیں۔ ہمیں انہیں بچانا ہے۔ریاست کی بھوپیش حکومت پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے دہرایا کہ اگر چھتیس گڑھ کے بھائی بہن ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت لاتے ہیں تو قبائلی بھائیوں کے ہزاروں کروڑ روپے جو گھپلوں میں کھا گئے، ان کو الٹا لٹکا کر سیدھا کرنے کا کام بی جے پی حکومت کرے گی۔

کانگریس آئی تو پھر آپ کا پیسہ لوٹ لے گی۔مسٹر شاہ نے کہا کہ اس بار پورے ملک میں ایک دیوالی منائی جائے گی لیکن چھتیس گڑھ میں تین دیوالیاں منائی جائیں گی، پہلی دیوالی دیوالی کے تہوار کے موقع پر منائی جائے گی، دوسری دیوالی 3 دسمبر کو منائی جائے گی جب کمل کے پھول کی حکومت بنے گی اور تیسری دیوالی اجودھیا میں رام جنم بھومی پر منائی جائے گی جب بھگوان شری رام کا مندر جنوری میں وقف کیا جائے گا تب بھی دیوالی شری رام کے ننیہال میں منائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پورے ملک میں قبائلیوں کے احترام، پانی، جنگل اور زمین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قبائلی بھائیوں کی حفاظت اور جامع ترقی کے لیے بہت کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے دیگر قبائلی برادریوں کو قبائلی گروپ میں شامل کیا۔ بھگوان برسا منڈا کے یوم پیدائش کو قبائلی دن کے طور پر منانے کے لیے کام کیا۔ مودی سرکار نے قبائلی مجاہد آزادی کے میوزیم بنانے کا کام کیا۔ آزادی کے بعد پہلی بار اوڈیشہ کی قبائلی بیٹی دروپدی مرمو کو صدر بنانے کا کام کیا۔چندریان کو چاند پر بھیجا گیا، پوری دنیا میں واہ واہ ہوئی۔

مودی حکومت نے لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں ماوں بہنوں کے لیے 33 فیصد ریزرویشن دینے کا کام بھی کیا۔مسٹر شاہ نے الزام لگایا کہ بگھیل حکومت نے اپنا وعدہ توڑا۔ بگھیل حکومت نے صرف ایک کام کیا، کانگریس پارٹی کا اے ٹی ایم بنا کر قبائلیوں کا پیسہ اس کے خاندان کے دربار میں پہنچایا۔ قبائلی ماوں بیٹیوں کا پیسہ دہلی بھیج کر کرپشن کرنے والی حکومت کو ووٹ نہ دیں۔ جب یہاں بی جے پی کی حکومت تھی، اس نے پی ڈی ایس لایا، تندو پتہ کا بونس شروع کیا، دھان کی خریداری شروع کی، بستر کے علاقوں کی ترقی شروع کی۔انہوں نے کانگریس پر ناگرنار اسٹیل پلانٹ کے تعلق سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ اس پلانٹ کی نجکاری نہیں کی جائے گی اور اس پر قبائلی بھائی بہنوں کا حق ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.