جموں،: جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ ان کی حکومت آنے والے وقت میں مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازموں اور کیجول ورکروں کی مستقلی کے لئے ایک "سٹرکچرڈ اور مرحلہ وار روڈ میپ” کا اعلان کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے قانونی اور مالی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ سال ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘میری حکومت مختلف محکموں میں کئی برسوں سے اپنی خدمات انجام دینے والے عارضی ملازموں، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں اور کیجول ورکروں کی دیرنہ مانگوں سے بخوبی واقف ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘اس معاملے کے قانونی اور مالی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ سال ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ ایک پائیدار اور شفاف فریم ورک کو عملی جامہ پہنایا جاسکے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ میری حکومت اس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ اور انسانی بنیادوں پر حل کے لیے پرعزم ہے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر آنے والے وقت میں ریگولرائزیشن کے لیے مرحلہ وار روڈ میپ کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ‘ان لوگوں،جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال عوام کی خدمت کے لئے وقف کئے ہوں، کو وقار، تحفظ اور مستحکم مستقبل فراہم کرنا ہمارا ہدف ہے’۔
وزیر اعلیٰ نے آشا اور آنگن واڑی کارکنوں کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکرز صحت عامہ اور ابتدائی چائلڈ ہڈ نظام کے لئے "ریڑھ کی ہڈی” کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے اعزازیہ کی بروقت ریلیز کو یقینی بنایا جائے گا’۔
انہوں نے یونین ٹریٹری میں پیشہ ورانہ اساتذہ کے اعزازیہ میں اضافے کا بھی اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘ پیشہ ورانہ اساتذہ کے اعزازیہ میں اضافہ کر دیا گیا ہے جو حکومت کے پیشہ ورانہ اساتذہ کے رول کو تسلیم کرنے کا عکاس ہے’۔





