شیخ العالمؒ۔ علم و عرفان کے پیکر

شیخ العالمؒ۔ علم و عرفان کے پیکر

وادی کشمیر کے بلند پایہ ولی کامل اور صوفی بزرگ حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒکا سالانہ عرس مبارک وادی کے طول و عرض میں نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب ان کے آستان عالیہ چرار شریف میں منعقد ہوئی، جہاں ہزاروں کی تعداد میں زائرین جمع ہوئے اور اجتماعی طور عبادت خدا وندی میں مشغول رہے اور اس طرح اس برگزیدہ ولی کامل ؒ کو خراج عقیدت پیش کیا۔جہاں تک اس روحانی بزرگؒ کا تعلق ہے، انہیں کشمیری عوام علمدار کشمیرؒ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں اور ان کے تئیں زبردست عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔

تین دہائیوں سے چلی آرہی ملی ٹنسی کے دوران جہاں وادی کے اطراف و اکناف میں زیارت گاہوں کو نقصان پہنچا ، وہیں اس بلند پایہ ولی کاملؒ کی زیارت گاہ بھی 1995میں اُس وقت آگ کی نذر ہوگئی، جب پاکستانی آرمی میجر مست گُل کی قیادت میں یہاں درجنوں ملی ٹنٹ زیارت گاہ میں پناہ لئے بیٹھے تھے۔کئی روز تک فوجی محاصرہ رہا لیکن ملی ٹنٹوں کے سرنڈر نہ کرنے پر یہ زیارت گاہ بھی ایک معرکہ آرائی کے دوران خاکستر ہوئی۔سرکار نے اس زیارت گاہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہاتھ میں لیا اور اس طرح پھر سے لوگوں کا آنا جانا اس زیارت گاہ پر شروع ہوا۔جہاں تک اس عظیم بزرگؒ کا تعلق ہے یہ کوئی عام فقیر نہیں تھے، جیسا کہ عام لوگوں کو خیال ہے بلکہ یہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھی ،جنہوں نے اپنے اشعار میں قران کا نہ صرف کشمیر ی میں ترجمہ کیا بلکہ آنے والے کل سے متعلق ایسی پیش گویاں بھی کی ہیں،جو موجودہ دور میں صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔کشمیر زبان کے اس عالم و فاضل بزرگ ؒکے ایک ایک کلام پر بڑے بڑے مفکر اور دانشور تحقیق کرتے ہیں اور اُن کی تعلیمات سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس عظیم شخصیتؒ نے نہ صرف ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے جنگلات کے تحفظ پر زور دیا ہے بلکہ بہتر پیداوار کےلئے پیڑ پودے لگانے پر بھی زور دیا ہے۔

انہوں نے سیاست اور صحافت ،علم و عرفان ،انصاف و ہمدردی کی تعلیمات سے بھی یہاں کےعوام کو درس دیا ہے تاکہ ایک بہتر معاشرہ قائم ہو سکے۔حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ نے انسانی ہمدردی ،آپسی بھائی چارے کی تعلیمات تولد ہوتے ہی ،آپ نے اُس وقت دی ہے جب آپ نے لل دید کے چھاتی سے شیر پینا تسلیم کیا۔آج کل وادی میں بہت سارے لوگ اس عظیم شخصیت کے مشن کی آبیاری کے لئے اپنی بساط کے مطابق کام بھی کرتے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اُن کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی جاتی ہے۔

بہرحال جس عظیم المرتب بزرگ کامل ؒ کا عرس مبارک منایا گیا ہے، وادی کے عوام واقعی ان حضراتؒ کی مرہون منت ہیں کہ انہوں نے ہمیں دینی و دنیاوی تعلیمات سے آراستہ کیا اور اُن کی بدولت اس خطے کی پہچان بن گئی۔خراج عقیدت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنا مستقبل سنوانے اور بہتر بنانے کی سعی کریں،تاکہ آپ ؒکے روح کو سکون مل جائے کہ جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سرزمین پر اُتاراتھا وہ اُن کے ماننے اور چاہنے والے پورا کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.