بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں ، دو سال میں صفایا ہوجائے گا: امت شاہ

بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں ، دو سال میں صفایا ہوجائے گا: امت شاہ

نئی دہلی:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف لڑائی اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے اور اگلے دو سال میں اس کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا۔

مسٹر شاہ نے جمعہ کو یہاں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ آج نئی دہلی میں بائیں بازو کی انتہا پسندی پر ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ مرکزی وزراء، قومی سلامتی کے مشیر، مرکزی داخلہ سکریٹری، سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے ڈائریکٹر جنرلز، مرکزی حکومت کے سیکریٹریز، ریاستوں کے چیف سیکریٹریز، پولیس کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پچھلے کچھ سالوں میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کو روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب یہ لڑائی فیصلہ کن مرحلے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے عزم اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ تمام ریاستوں کے تعاون سے 2022 اور 2023 میں اس کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے 2 سالوں میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم لینے کا سال ہے۔

مسٹرامت شاہ نے کہا کہ 2019 سے بائیں بازو کی انتہا پسندی کے لئے زمین تنگ ہورہی ہیں، ہم نے سی اے پی ایف کے 195 نئے کیمپ قائم کیے ہیں، مزید 44 نئے کیمپ قائم کیے جائیں گے۔ مسٹرشاہ نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی تعیناتی، ترقی کو معقول بنانا اور بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثرہ علاقوں میں کیمپ قائم کرنا مودی حکومت کی ترجیحات ہیں۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں مسلسل نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مسئلہ وہاں دوبارہ سر نہ اٹھا نے پائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جن علاقوں سے یہ مسئلہ ختم ہوا ہے وہاں سے بائیں بازو کے شدت پسند دوسری ریاستوں میں پناہ نہ لیں۔

مسٹرامت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے 2014 سے بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خلاف قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں گزشتہ 4 دہائیوں میں 2022 میں تشدد اور اموات کی سب سے کم سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2005 سے 2014 کے مقابلے 2014 سے 2023 کے درمیان بائیں بازو کی شدت پسندی سے متعلق تشدد میں 52 فیصد سے زیادہ، اموات میں 69 فیصد، سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں 72 فیصد اور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں 68 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) بائیں بازو کی انتہا پسندی کی مالی امداد کو زک پہنچانے کے لیے تمام ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متاثرہ ریاستوں کو بائیں بازو کی انتہا پسندی کی مالی مدد کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے سول اور پولیس انتظامیہ کی مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے 2017 میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کے متاثرین کے لیے مالی امداد کی رقم 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی تھی، اب اسے مزید بڑھا کر 40 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔

مسٹرشاہ نے کہا کہ مودی حکومت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں میں ترقی کو تیز کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر، ٹیلی کمیونی کیشن، مالیاتی شمولیت، اسکل ڈیولپمنٹ اور تعلیم جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ مسٹرشاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں ترقی کو تیز کرنے کے لیے خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) اسکیم کے تحت 14,000 سے زیادہ منصوبے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ مکمل ہو چکے ہیں اور اسکیم کے تحت بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کو 3,296 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

یواین آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.