بنا بجلی کے ڈیجیٹلائزیشن کا کیا فائدہ

بنا بجلی کے ڈیجیٹلائزیشن کا کیا فائدہ

وادی میں فصلوں کی کٹائی کے ساتھ ہی سردی کی شروعات ہونے لگی ہے اور عام لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق سردیوں سے بچنے کےلئے تمام قسم کی ضروریات جمع کرنے میں لگے ہیں ۔وادی میں چونکہ سردیوںکے ایام میں بہت زیادہ برف باری ہو تی ہے لیکن اب وہ پُرانا زمانہ نہیں رہا ہے کہ لوگ چھ مہینوں کے لئے کھانے پینے کی ایشاء،کوئلہ،تیل خاکی اور بالن وغیرہ ذخیرہ کریں کیونکہ سب کچھ ڈیجیٹل ہو چکا ہے ۔

اب رسوئی گیس اور بجلی سے ہی سارا کم لیا جاتا ہے۔الیکٹرک کمبلوں ،گیزروں ،اے سیز کا استعمال شہر و دیہات میں ہورہا ہے اور اس طرح بجلی پرہی زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔وادی میں جہاں تک بجلی پیداوار کا تعلق ہے، اچھی خاصی ہے لیکن سرکار زیادہ تر بجلی جموں کشمیر سے باہر یہ سوچ کر فروخت کرتی ہے کہ جموں کشمیر کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے، اسطرح مختلف قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو۔اب کی بار سردی سے قبل ہی بجلی کی کٹوتی شروع ہو چکی ہے جس سے عام لوگوں میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ امسال بجلی کی زبردست قلت محسوس کی جائےگی۔محکمہ بجلی نے اگر چہ بجلی چوری روکنے اور لوگوں سے بہتر ڈھنگ سے فیس وصولنے کےلئے ڈیجیٹل میڑ نصب کئے ہیں اور ادائیگی بھی ڈیجیٹل طریقے سے کی جاتی ہے۔

تاہم پھر بھی اکثر علاقے گھپ اندھیرے میں ہی نظر آتے ہیں۔جموں کشمیر سرکار نے بجلی کی پیدا وار بڑھانے کی خاطر چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر اور ہوا سے حاصل کی جارہی بجلی پروجیکٹ بنانے کا منصوبہ ہاتھ میں لیا تھا لیکن وقت کے دیمک نے اس منصوبے کو بھی کھوکھلا کر کے رکھ دیا۔ موجودہ انتظامیہ نے جموں کشمیر کے دور دراز پہاڑی علاقوں تک پینے کے پانی اور بجلی سپلائی کےلئے کھمبے لگائے اورترسیلی لائنیں بچھائیہیں۔ لیکن ا گر مسلسل سپلائی نہیں رہتی ہے تو پھر اس کا کیا فائدہ ۔موجودہ ترقی یافتہ دور میں بغیر بجلی کے انسان کا زندہ رہنا مشکل ہے کیونکہ انسان مشین کی مانند بن چکا ہے ۔

گھر ،دفتر ،اسکول ،کالج کے علاوہ ہر جگہ بجلی درکار ہے اور بنا بجلی کے کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا ہے۔لیب ٹاپ،کمپیوٹر،موبائل انسانی زندگی کا حصہ بن چکا ہے ،انسان تمام کام آن لائن کرتا ہے۔ اگر بجلی صحیح ڈھنگ سے نہیں رہتی ہے تو ملک کو ڈیجیٹل بنانے کا کیا فائدہ۔اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوگا کہ وادی میں برف باری کے دوران پاور سپلائی متاثر ہو تی ہے لیکن اگر موسم بہتر ہونے کے باوجود بجلی نہیں رہتی ہے، تو انتظامیہ کو اس حوالے سے قبل از وقت سوچنا چاہئے اور متبادل طور پر گیس ٹربائن کا استعمال عمل میں لانا چاہئے ۔تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا سردیوں کے ایام میں نہ کرنا پڑے۔سردیوں کے ایام سے قبل تمام ضروریات زندگی کی چیزوں کا وافر مقدار بھی ذخیرہ کر ے تاکہ سرینگر۔جموں قومی شاہراہ بند ہونے سے اہل وادی کو پریشان نہ ہونا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.