ہندوستانی آئین کے نظریات نے ملک کو مسلسل ترقی کا راستہ دکھایا ہے: مرمو

ہندوستانی آئین کے نظریات نے ملک کو مسلسل ترقی کا راستہ دکھایا ہے: مرمو

نئی دہلی، 25 جنوری :صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان کے آئین میں درج نظریات نے ملک کی رہنمائی کی ہے اور ملک غربت اور ناخواندگی کی حالت سے نکل کر اب ایک خود کفیل ملک کے طور پر کھڑا ہے۔

صدر جمہوریہ ہند نے 74 ویں یومِ جمہوریہ سے قبل کے اپنے خطاب میں کہا ملک اور بیرونِ ملک رہنے والے ہر ایک بھارتی کو ، میں دِلی مبارکباد دیتی ہوں ۔ آئین کے نافذ ہونے کے دن سے لے کر آج تک ہمارا سفر شاندار رہا ہے اور اس سے کئی دوسرے ملکوں کو ترغیب ملی ہے ۔ ہر ایک شہری کو بھارت کے شاندار کارناموں پر فخر کا احساس ہوتا ہے ۔ جب ہم یومِ جمہوریہ مناتے ہیں ، تب ایک قوم کی صورت میں ہم نے ، جو مل جل کر کامیابیاں حاصل کی ہیں ، ہم اُن کا جشن مناتے ہیں ۔

بھارت ، دنیا کی سب سے قدیم زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے ۔ بھارت کو جمہوریت کی ماں کہا جاتاہے ، پھر بھی ہماری جدید جمہوریت نوجوان ہے ۔ جمہوریت کے شروعاتی برسوں میں ، ہمیں اَنگنت چیلنجوں اور منفی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ۔ طویل غیر ملکی حکمرانی کے بہت سے خراب نتائج میں سے دو خراب اثرات تھے – خطرناک حد تک غریبی اور ناخواندگی ۔ پھر بھی بھارت کا عزم متزلزل نہیں ہوا ۔ امید اور یقین کے ساتھ ہم نے انسانیت کی تاریخ میں ایک انوکھا تجربہ شروع کیا ۔ اتنی بڑی تعداد میں اتنے تنوع سے بھرا مجمع – ایک جمہوریت کے طور پر یکجا نہیں ہوا تھا ۔ ایسا ہم نے ، اِس یقین کے ساتھ کیا کہ ہم سب ایک ہی ہیں اور ہم سبھی بھارتی ہیں ۔ اتنے سارے عقائد اور اتنی ساری زبانوں نے ، ہمیں تقسیم نہیں کیا ہے ، بلکہ ہمیں جوڑا ہے۔ اسی لئے ہم ایک عوامی جمہوریہ کے طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔ یہی بھارت کا اصل جوہر ہے۔

یہ جوہر آئین میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور وقت کی کسوٹی پر کھرا اترا ہے۔ جدوجہد ِ آزادی کے اصولوں کے مطابق ہماری جمہوریت کو بنیاد دینے والا آئین بنا ۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں، قومی تحریک کا مقصد ، آزادی حاصل کرنا بھی تھا اور بھارتی اصولوں کو پھر سے قائم کرنا بھی تھا ۔ ان دہائیوں کی جدوجہد اور قربانیوں نے ہمیں نہ صرف غیر ملکی حکمرانی سے بلکہ مسلط کی گئی اقدار اور تنگ نظری سے بھی آزادی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔ امن ، بھائی چارا اور برابری کی ہماری صدیوں پرانی اقدار کو پھر سے اپنانے میں انقلابیوں اور مصلحین نے دور اندیش اور مثالی شخصیات کے ساتھ مل کر کام کیا۔ جن لوگوں نے جدید بھارتی خیالات کو فروغ دیا ، انہوں نے ” آنو بھدراہ کرتو ینتو وشواتا ” یعنی – ہمارے پاس سبھی سمت سے اچھے نظریات آئیں – کے ویدِک اُپدیش کے مطابق ترقی پسند نظریات کا بھی خیرمقدم کیا ۔ طویل اور گہرائی سے غور و خوض کے نتیجے میں ہمارے آئین کی تشکیل ہوئی ۔

محترمہ مرمو نے کہا کہ ہماری یہ بنیادی دستاویز دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیب کے انسانیت پسند فلسفے کے ساتھ ساتھ جدید نظریات سے بھی متاثر ہے۔ ہمارا ملک باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کا ہمیشہ مقروض رہے گا، جنہوں نے ڈرافٹنگ کمیٹی کی سربراہی کی اور آئین کو حتمی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج کے دن ہمیں آئین کا ابتدائی مسودہ تیار کرنے والے ماہرِ قانون جناب بی این راؤ اور دیگر ماہرین اور عہدیداروں پر بھی فخر کرنا چاہیئے ، جنہوں نے آئین کی تشکیل میں مدد کی تھی ۔ ہمیں اِس بات کا فخر ہے کہ اس آئین ساز اسمبلی کے ارکان نے ، بھارت کے سبھی علاقوں اور برادریوں کی نمائندگی کی۔ آئین ساز اسمبلی میں 15 خواتین ارکان نے بھی تعاون کیا ۔

انہوں نے کہا آئین میں درج اصولوں نے ہماری جمہوریت کی مسلسل رہنمائی کی ہے۔ اس عرصے کے دوران، بھارت ایک غریب اور ناخواندہ قوم کی صورتِ حال سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی فورم پر ایک خود اعتمادی سے پُر قوم کی جگہ لے چکا ہے ۔ آئین تیار کرنے والوں کی مشترکہ ذہانت سے ملی رہنمائی کے بغیر یہ ترقی ممکن نہیں تھی ۔

بابا صاحب امبیڈکر اور دیگر شخصیات نے ہمیں ایک خاکہ اور اخلاقی بنیاد فراہم کی ۔ اس راستے پر چلنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہم کافی حد تک ان کی توقعات پر پورے اترے بھی ہیں لیکن ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ گاندھی جی کے ‘سروودیہ’ کے اصولوں کو حاصل کرنا یعنی سبھی کا فروغ حاصل کیا جانا ابھی باقی ہے ۔ پھر بھی ہم نے سبھی شعبوں میں حوصلہ افزاترقی حاصل کی ہے ۔

صدر جمہوریہ محترمہ مرمو نے نے خطاب میں کہا سروودیہ کے ہمارے مشن میں، اقتصادی محاذ پر پیش رفت سب سے زیادہ حوصلہ افزا رہی ہے۔ پچھلے سال بھارت ، دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ کامیابی معاشی غیر یقینی صورت ِحال کے عالمی پس منظر میں حاصل کی گئی ہے۔ عالمی وباء اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور دنیا کے زیادہ تر حصوں میں اقتصادی ترقی پر ، اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ ابتدائی دور میں کووڈ-19 سے بھارت کی معیشت کو بھی کافی نقصان پہنچا ، پھر بھی اہل قیادت اور موثر جدوجہد کے بل پر، ہم جلد ہی کساد بازاری سے نکل آئے اور اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کیا۔ معیشت کے بیشتر شعبے اب وباء کے اثرات سے باہر آچکے ہیں۔ بھارت سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ یہ حکومت کے ذریعے وقت پر کی گئی فعال کوششوں کی وجہ سے ہی ممکن ہو پایا ہے۔ اس تناظر میں ‘خود کفیل بھارت ‘ مہم کے تئیں عوام کے درمیان خاص جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے لئے خصوصی مراعاتی اسکیمیں بھی نافذ کی گئی ہیں۔

یہ بڑے اطمینان کی بات ہے کہ جو لوگ حاشیے پر رہ گئے تھے ، انہیں بھی اسکیموں اور پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے اور ان کی مشکلات میں مدد کی گئی ہے۔ مارچ ، 2020 ء میں اعلان کردہ ‘پردھان منتری غریب کلیان اَنّ یوجنا’ پر عمل کرتے ہوئے، حکومت نے ایسے وقت میں غریب خاندانوں کے لئے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا ، جب ہمارے ہم وطن ، کووڈ – 19 وباء کے اچانک پھیلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی پریشانی کا سامنا کر رہے تھے ۔ اس مدد کی وجہ سے کسی کو خالی پیٹ نہیں سونا پڑا۔ غریب خاندانوں کے مفاد کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے ، اس اسکیم کی مدت کو بار بار بڑھایا گیا اور اس سے تقریباً 81 کروڑ ملک کے باشندے مستفید ہوتے رہے۔ اس امداد کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سال 2023 ء کے دوران بھی مستحقین کو ان کا ماہانہ راشن مفت ملے گا۔ اس تاریخی قدم سے حکومت نے کمزور طبقات کو معاشی ترقی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ، ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کی بنیاد مضبوط ہونے کی وجہ سے ، ہم مفید کوششوں کا سلسلہ شروع کرنے اور آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارا حتمی مقصد ایک ایسا ماحول بنانا ہے ، جس سے سبھی شہری انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی حقیقی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کریں اور ان کی زندگی پھلے پھولے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے تعلیم ہی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ اس لئے ‘قومی تعلیمی پالیسی’ میں حوصلہ افزا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تعلیم کے دو بنیادی مقاصد کہے جا سکتے ہیں۔ پہلا، معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانا اور دوسرا، سچ کی تلاش۔ قومی تعلیمی پالیسی ، ان دونوں مقاصد کے حصول کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ پالیسی تعلیم حاصل کرنے والوں کو 21ویں صدی کے چیلنجوں کے لئے تیار کرتے ہوئے ، ہماری تہذیب پر مبنی علم کو جدید زندگی کے لئے مفید بناتی ہے۔ اس پالیسی میں تعلیمی عمل کو وسعت اور گہرائی فراہم کرنے میں ٹیکنالوجی کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

کووڈ وبا سے متعلق صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں کووڈ-19 کے ابتدائی دور میں یہ دیکھنے کو ملا کہ ٹیکنالوجی میں زندگی کو بدلنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔ ’ڈیجیٹل انڈیا مشن‘ کے تحت دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کو ختم کرکے معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دور دراز علاقوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں توسیع کی مدد سے، لوگوں کو حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مختلف قسم کی خدمات حاصل ہو رہی ہیں۔ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی کامیابیوں پر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔ خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت چند سرکردہ ممالک میں سے ایک رہا ہے۔ اس شعبے میں کافی عرصے سے التوا میں پڑی اصلاحات کی جا رہی ہیں اور اب نجی اداروں کو اس ترقی کے سفر میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ بھارتی خلابازوں کو لے جانے کے لئے ‘گگن یان’ پروگرام جاری ہے۔ یہ بھارت کی پہلی انسان بردار خلائی پرواز ہوگی۔ ہم ستاروں تک پہنچ کر بھی اپنے پاؤں زمین پر رکھتے ہیں۔

ہندوستان کے ’منگل مشن‘ کو غیر معمولی خواتین کی ایک ٹیم کے ذریعے چلایا گیا تھا اور دیگر شعبوں میں بھی بہنیں اور بیٹیاں اب پیچھے نہیں ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا اور خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات اب محض نعرے نہیں رہے۔ ہم نے حالیہ برسوں میں ان آئیڈیلز تک پہنچنے میں بڑی پیش رفت حاصل کی ہے۔ ‘بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’ مہم میں لوگوں کی شمولیت کے بل پر، کام کے ہر شعبے میں خواتین کی نمائندگی بڑھ رہی ہے۔ ریاستوں کے اپنے دوروں، تعلیمی اداروں میں پروگراموں اور پیشہ ور افراد کے مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران، میں لڑکیوں کی خود اعتمادی سے بہت متاثر ہوتی ہوں۔ میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ خواتین ہی آنے والے کل کے بھارت کو شکل دینے کے لئے سب سے زیادہ تعاون کریں گی ۔ اگر نصف آبادی کو قومی تعمیر میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق تعاون کرنے کا موقع دیا جائے اور ان کی ہمت افزائی کی جائے ، تو ایسے کون سے معجزے ہیں ، جو نہیں کئے جا سکتے ؟

بااختیار بنانے کا یہ نظریہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سمیت کمزور طبقے کے لوگوں کے لئے حکومت کے طریقۂ کار کی رہنمائی کرتا ہے۔ درحقیقت ہمارا مقصد نہ صرف ان لوگوں کی زندگی کی رکاوٹوں کو دور کرنا اور ان کی ترقی میں مدد کرنا ہے بلکہ ان برادریوں سے سیکھنا بھی ہے ، خاص طور سے قبائلی برادریوں کے لوگ ماحولیات کے تحفظ سے لے کر سماج کو اور زیادہ متحد بنانے تک کئی شعبوں میں سکھا سکتے ہیں ۔

صدر جمہوریہ نے مزید اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حکمرانی کے تمام پہلوؤں میں تبدیلیاں لانے اور لوگوں کی تخلیقی توانائی کو بروئے کار لانے کے لئے حالیہ برسوں میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں، عالمی برادری ، اب بھارت کو ایک نئے احترام کے ساتھ دیکھتی ہے۔ دنیا کے مختلف فورموں پر ہماری فعالیت سے مثبت تبدیلی آنی شروع ہو گئی ہے ۔ بھارت نے عالمی پلیٹ فارم پر ، جو احترام حاصل کیا ہے ، اس کے نتیجے میں ملک کو نئے مواقع اور ذمہ داریاں بھی ملی ہیں۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، اس سال بھارت جی – 20 ممالک کے گروپ کی صدارت کر رہا ہے۔ عالمگیر بھائی چارے کے اپنے آئیڈیل کے مطابق، ہم سب کے لئے امن اور خوشحالی کی خاطر کھڑے ہیں۔ جی – 20 کی صدارت ایک بہتر دنیا کی تعمیر میں تعاون کے لئے بھارت کو انتہائی اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس طرح جی – 20 کی صدارت ، جمہوریت اور تکثرییت کو بڑھاوا دینے کا اچھا موقع بھی ہے اور ساتھ ہی ایک بہتر دنیا اور بہتر مستقبل کی تشکیل کا ایک موثر پلیٹ فارم بھی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بھارت کی قیادت میں جی – 20 ایک زیادہ منصفانہ اور مستحکم عالمی نظام کی تعمیر کے لئے اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو گا۔

جی ٹونٹی کاذکر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے بتایا کہ جی – 20 کے رکن ممالک کا پوری دنیا کی کل آبادی میں تقریباً دو تہائی اور عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 85 فی صد حصہ ہے ۔ اس لئے یہ عالمی چیلنجوں پر تبادلۂ خیال کرنے اور ان کا حل نکالنے کے لئے ایک مثالی فورم ہے۔ میرے خیال میں گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا میں تبدیلی ایسے چیلنجز ہیں ، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عالمی درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے اور آب و ہوا میں تبدیلی کی انتہائی شکلیں سامنے آ رہی ہیں۔ ہمیں ایک سنگین مخمصے کا سامنا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو غریبی سے باہر نکالنے کے لئے اقتصادی معاشی ترقی ضروری ہے لیکن اس ترقی کے لئے معدنی ایندھن کا استعمال بھی کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے گلوبل وارمنگ کا سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور انہیں مقبول بنانا بھی ایک حل ہے۔ بھارت نے شمسی توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کو پالیسی مراعات دے کر اس سمت میں ایک قابل ستائش قدم اٹھایا ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے مالی امداد کے ذریعے مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لئے ہمیں قدیم روایات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی بنیادی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرنی ہوگی۔ روایتی زندگی کی قدروں کی سائنسی جہتوں کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں ایک بار پھر فطرت کے احترام اور لامحدود کائنات کے سامنے عاجزی کا احساس پیدا کرنا ہو گا۔ میں اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہوں گی کہ مہاتما گاندھی جدید دور کے ایک حقیقی دور اندیش تھے کیونکہ انہوں نے بے لگام صنعت کاری سے ہونے والی آفات کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور دنیا کو اپنے طور طریقے کو سدھارنے کے لئے متنبہ کر دیا تھا ۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اس زمین پر خوشگوار زندگی گزاریں تو ہمیں اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں تجویز کردہ تبدیلیوں میں سے ایک خوراک سے متعلق ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اقوام متحدہ نے بھارت کی تجویز کو قبول کیا ہے اور سال 2023 ء کو ‘ دا انٹر نیشنل ایئر آف ملٹس ‘ قرار دیا ہے۔ باجرا جیسے موٹے اناج ہماری خوراک کے اہم جزو ہوا کرتے تھے ۔ سماج کے سبھی طبقے انہیں پھر سے پسند کرنے لگے ہیں۔ ایسے اناج ماحول دوست ہیں کیونکہ یہ کم پانی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اناج بھی اعلیٰ سطح کی غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ اگر زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی خوراک میں موٹے اناج کو شامل کریں تو اس سے ماحولیاتی تحفظ میں مدد ملے گی اور لوگوں کی صحت میں بھی سدھار ہو گا ۔

اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا جمہوریت کا ایک اور سال گزر چکا ہے اور ایک نئے سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ بے مثال تبدیلی کا وقت رہا ہے۔ وباء کے پھیلنے سے دنیا چند ہی دنوں میں بدل گئی تھی ۔ پچھلے تین سالوں کے دوران، جب بھی ہمیں لگا کہ ہم نے وائرس پر قابو پا لیا ہے ، تو وائرس پھر کسی بدلی ہوئی شکل میں واپس آ گیا ہے لیکن اب اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہماری قیادت، ہمارے سائنسداں اور ڈاکٹرز، ہمارے منتظمین اور ‘کورونا جانباز ‘ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ہم نے یہ بھی سیکھا ہے کہ ہم اپنے تحفظ میں کمی نہیں آنے دیں گے اور چوکس بھی رہیں گے ۔

مختلف علاقوں میں کام کرنے والے کئی نسلوں کے لوگ ہماری جمہوریت کی اب تک کی ترقی کے سفر میں بیش قیمت تعاون کے لئے ستائش کے حقدار ہیں ۔ میں کسانوں، مزدوروں، سائنسدانوں اور انجینئروں کے کردار کی ستائش کرتی ہوں ، جن کی اجتماعی قوت ہمارے ملک کو "جے جوان، جے کسان، جے وگیان، جے انوسندھان” کے جذبے سے آگے بڑھنے کا اہل بناتی ٍ ہے۔ میں ملک کی ترقی میں تعاون دینے والے ہر ایک شہری کی ستائش کرتی ہوں۔ بھارت کی تہذیب اور ثقافت کے سفیر غیر مقیم بھارتیوں کو بھی ، میں سلام پیش کرتی ہوں ۔

اس موقع پر ، میں ان بہادر جوانوں کی ، خاص طور سے ستائش کرتی ہوں ، جو ہماری سرحدوں کا تحفظ کرتے ہیں اور کسی بھی تیاگ اور قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ شہریوں کو اندرونی تحفظ فراہم کرنے والے تمام نیم فوجی دستوں اور پولیس فورس کے بہادر جوانوں کی بھی ، میں ستائش کرتی ہوں ۔ ہماری افواج اور نیم فوجی دستے اور پولیس فورسز کے ، جن جوانوں نے اپنا فرض انجام دیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی ہے ، اُن سب کو میں سلام پیش کرتی ہوں ۔ میں سبھی پیارے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے ، خلوص دِل سے آشیرواد دیتی ہوں ۔ آپ سبھی ہم وطنوں کے لئے ایک بار پھر ، میں یومِ جمہوریہ کی دِلی نیک خواہشات پیش کرتی ہوں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.