
شوکت ساحل
زندگی کا ایک اور سال ہم سب سے رخصت ہوگیا ۔ہم نے2022کو خیر باد کہہ کر 2023کی آمد کا والہانہ استقبال کیا ۔

ویسے بھی ہر سال دسمبر کا مہینہ ہمیں زندگی کا ایک برس کم ہونے کی خبر دیتا اور رخصت ہو جاتا ہے۔
ہم اپنی آنکھوں میں بہتری، روشنی، کامیابی اور فروغ کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے اور سوچتے ہیں کہ شاید یہی وہ سال ہے ،جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور امیدیں حقیقت کا روپ دھار لیں گی۔
یہ سوچنے کی یقینا ضرورت ہے کہ آنے والے نئے سال میں ہم کیا کریں گے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ اندازہ لگانے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم نے گزرنے والے سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ کیا ہم نے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے کسی غریب کی مدد کی؟ حقوق العباد کا خیال رکھا؟ عبادت میں کوتاہی تو نہیں کی؟ کسی کا دِل تو نہیں دکھایا؟ ماں باپ کی خدمت کی؟ اپنوں کا خیال رکھا، صلہ رحمی کیا؟ پروردگارِ عالم نے ہمیں جو نعمتیں عطاءکی ہیں، ان میں سے حق داروں کا حصہ نکالا؟۔نئے سال کی آمد جشن کا منانا قدیم روایت ہے۔

رات 12بجے کا وقت ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کا استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے،اِس لئے خوشی منانے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ ہلڑ بازی، آتش بازی اورناچ گانے کا موقع نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِس دنیا میں جس امتحان کے لئے بھیجا ہے، نئے سال کے شروع ہونے کا مطلب ہے کہ اس وقت میں مزید کچھ کمی واقع ہو گئی ہے۔
سال2022 کا اختتام ہونے کے ساتھ نئے سال کی آمد ہے گزشتہ سال اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں، بہت سے غم لے کر رخصت ہوا ہے۔
بہت سے نئے مسائل اورنئی آزمائشیں ہمارے لیے چھوڑ کر جارہا ہے، نیا سال نئی امیدیں نئے امکانات لئے طلوع ہواہے ۔
ہم نے پچھلے سال کیا کھویا کیا پایا اوراب کیا کرنا ہے اسی سوچ اور نئے عزم وامید کے ساتھ نئے سال کا آغاز کرنے والے ہیں، یہی زندگی کا سلسلہ ہے جو شروع سے جاری ساری ہے۔نئے سال ہمیں ماضی میں کی گئی غلطیوں کو سدھارنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے ۔

اگر ہم منصوبہ بندی کیساتھ آگے بڑھیں گے ،تو کامیابی یقینا ہمارے قدم چھومے گی ۔تاہم اس کے لئے مصمم ارداہ شرطِ اول ہے ۔
ہمیں خود کا محاسبہ کرنا ہوگا کہ گزشتہ سال ہم سے کس طرح کی غلطیاں سر زر ہوئیں ،اُنہیں سدھارا جائے ،وہ سب کچھ کریں جس سے اطمینان قلب بھی ہو اور سکونِ ذہن بھی۔سال2023نئی امیدوں کے ساتھ دستک دے چکا ہے ،فرسودہ روایات سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔
محنت ،لگن اور ایمانداری کے سبق کو نہ صرف یاد کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دہرا نا بھی لازمی ہے ۔ آئیے عزم کریں کہ ہم اپنی ہر طرح کی ذمہ داریاں مکمل ایمان داری سے پوری کریں گے، اچھا مسلمان اور اچھا شہری بننے کی کوشش کریں گے، اپنی ذات سے، باتوں میں یا عمل کے ذریعے، کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے،اپنی اور اپنے مستقبل کی حالت بدلنے کی کوشش کریں گے اور اِس حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔
پروردگار عالم سے دعا ہے کہ آنے والا سال پورے بنی نوع انسان کے لئے امن، سلامتی، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام لائے اور نیا سال عالمی وباءسے نجات، مالی مسائل سے نکلنے اورمشکلات کے بھنور سے نکالے،لیکن بدلتی دنیا کیساتھ ساتھ ہمیںبھی خود کو بدلنا ہوگا ۔کیوں کہ دنیا بدل رہی ہے ۔





