وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا بلکہ وقت کو انتظار کرنے والے لوگ ہی زندگی میں کامیاب وکامران ہوتے جو اسکی قدر کرتے ہیں اور ا س وقت کو ضائع کئے بغیر کچھ اچھا کرتے ہیں ۔
جہاں تک سال 2022کا تعلق یہ سا ل بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور ہر سال کی طرح اپنے پیچھے وہ سب کچھ چھوڑ کر چلا گیا جو اس برس کے دورا ن لوگوں نے اچھے اور برے کام کئے ہیں ۔
جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق سال 2022ءبھی کسی حد تک پر امن سال گذر چکا ہے ،اس سال میں نہ ہی ہڑتالیں اور نہ ہی کرفیو یا بندشیں دیکھنے کو ملیں جیسا کہ 3دہائیوں کے دوران ایک سلسلہ چلا تھا ۔
اس برس کے دورا ن کچھ اہم فیصلے سرکار نے بھی کئے اور کئی نئی تعمیراتی کام بھی عمل میں لائے ۔تعلیمی نظام میں سدھار آگیا ،رشوت تانی میں کسی حد تک کمی آگئی ،سیاسی پارٹیاں اپنی سرگرمیاں
جاری رکھتے ہوئے نظر آئیں ۔بہت سارے لوگ اس سال کے دوران اس دنیا فانی سے کوچ کر کے چلے گئے ۔
اس طرح وہ اپنے دوستوں ،رشتہ داروں ،ہم سفروں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے ۔اگر باریک بینی سے دیکھا جائے دنیا کی اصل حقیقت یہی ہے کہ اس دنیا میں جو بھی چیزآئی ہے اُسکو یہاں سے واپس چلا ہی جانا ہے ،لیکن نیکی اور بدی رہ گئی ۔
آ ج کل کے نوجوان نئے سال کی آمد پر خوشیا ں مناتے ہیں جو بہرحال ان کا حق ہے لیکن اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو سال ہم سے دور چلا گیا، اس وقت کے دوران ہم نے کیا کچھ کیا ،کتنی نیکیا ں کیں اور کتنے غلط کام کئے ۔
اپنے آپ کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم انصاف پسند اس برس کے دوران رہے یا پھر دوسروں پر ظلم کر کے ،دنیا کی دوڑ میں آگے چلے گئے ۔
یہی صحیح انسان کی پہچان ہے، جو اس گذرتے برس کا محاسبہ کرے گا اور آنے والے نئے سال کیلئے اپنی زندگی کیلئے ایک بہتر پلان ترتیب دے ،ورنہ سچ یہی ہے کہ ہماری عمر میں ایک سال کی کمی ہو چکی ہے جو ہر گز واپس نہیں آسکتا ہے ۔غالباً ان ہی باتوں کو مدنظر رکھ کر شاعر نے لکھا ہے ۔گذرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ ،حافظ خدا تمہارا۔





