عوام پر مہنگائی کی مار۔۔۔

عوام پر مہنگائی کی مار۔۔۔

تحریر:شوکت ساحل

ملکی عوام پہلے ہی حد درجہ مہنگائی کی مار سے جوجھ رہے ہیں ۔عالمی وباکووڈ ۔19سے پیدا شدہ صورت ِ حال کے سبب پوری دنیا میں اقتصادیات پر منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں ۔سری لنکا جیسا ملک دیووالیہ ہوگیا اور سیاستدانوں کو راہ ِ فرار اختیار کرنی پڑی ۔پڑوسی ملک پاکستان کے اقتصادی حالات بھی سری لنکا سے مختلف نہیں ۔

لیکن 9اور10فیصد جی ڈی پی کیساتھ ترقی کررہا ملک ِہندوستان میں بھی اقتصادی حالت بہتر نہیں دکھا ئی دے رہی ہے، جس کا اندازہ اس بات لگا یا جاسکتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہوش ربا اضافہ پھر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا نے والی کمی ،لیکن طرح طرح کے ٹیکسز میں اضافہ واضح عندیہ دے رہا ہے کہ ملک ِ ہندوستان بھی خاموشی کے ساتھ اقتصادی بدحالی کا شکار ہے ۔

حالیہ دنوں مرکزی حکومت نے کھانے پینے کی اشیاءپر جی ایس ٹی کا اطلاق کرکے نکڑ سیاسی میز سے لیکر مین اسٹریم سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچادی ،کیوں کہ اپوزیشن نے اس فیصلے کو ”وصولی“ سے تعبیر کیا ہے ۔مانسون پارلیمنٹ اجلاس کے دوران بھی ہنگا مہ آرائی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔

اس بیچ جی ایس ٹی کونسل کے فیصلے کے نفاذ کے بعد کھانے پینے کی کئی اشیاءمہنگی ہو گئیں۔ ان میں پہلے سے پیک شدہ اورلیبل شدہ کھانے جیسے آٹا، پنیر اور دہی شامل ہیں۔ اب ان پر 5فی صد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑے گا۔

مہنگائی کی مار جھیل رہے عوام کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ کئی چیزوں پر جی ایس ٹی ادا کرنا پڑے گا۔ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے بعد حکومت نے کئی مصنوعات اور خدمات پر ٹیکسز کی شرحوں میں تبدیلی کی ہے، جس کی وجہ سے کئی اشیا پر مزید جی ایس ٹی ادا کرنا پڑے گا۔

اس میں وہ سامان بھی شامل ہے، جن پر پہلے جی ایس ٹی نہیں تھا۔ اسی طرح5ہزار روپے سے زیادہ کرایہ لینے والے اسپتال کے کمروں پر بھی جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک ہزار روپے یومیہ سے کم کرایہ والے ہوٹل کے کمروں پر12 فیصد کی شرح لاگو ہے۔

یہ چیزیں مہنگی ہیں‘پرنٹنگ/ڈرائنگ انک’، تیز چاقو، کاغذ کاٹنے والے چاقو اور ‘پنسل شاپنرز’، ایل ای ڈی لیمپ، ڈرائنگ اور مارکنگ مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر18 فیصد کر دی گئی ہے۔

سولر واٹر ہیٹر پر اب 12 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ جبکہ پہلے5 فیصد ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ سڑکوں، پلوں، ریلوے، میٹرو، ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس اور شمشان گھاٹوں کے کام کے معاہدوں پر اب تک12 فیصد کے مقابلے18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔

تاہم، کھلے میں فروخت ہونے والی غیر برانڈڈ مصنوعات پر جی ایس ٹی کی چھوٹ جاری رہے گی۔روزمرہ کی استعمال ہونے والی10 چیزیںدہی، لسی اور چھاچھ (5 فی صد)،سرسوں کا تیل پہلے ساتویں آسمان پر ہے ۔ہندوستان کی روپے کی قد میں کمی اور ڈالر میں اضافہ ،کئی خدشات کو جنم دے رہے ہیں ۔

موجودہ اقتصادی حالت میں ملک ہندوستان کا پانچویں بڑی عالمی معیشت بننے کا خواب پورا ہوگا ،یا نہیں ؟اس پر سوالیہ نشان ہی لگا ہوا ہے ۔تاہم ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کی بجائے عوام کو راحت دینے کے لئے جامعہ پالیسی مرتب کرنی کی ضرورت ہے ۔

بدلتی دنیا میں معیشت کو مضبوط کرنے کےساتھ ساتھ ملکی عوا م کو راحت پہنچا نی ہوگی اورکھانے پینے کی اشیاءپر جی ایس ٹی کا اطلاق کرکے غریب عوام کا بھلا نہیں ہوگا اور نا ہی چند کلو راشن مفت میں دینے سے غریب کا پیٹ پالا جاسکتا ہے ۔

شاہی اخراجات کو کم کرکے ہی غریب عوام کو دو وقت کی تو نہیں لیکن ایک وقت کی روٹی دی جاسکتی ہے ،بشرط یہ کہ سیاستدان عیش وعشرت کی زندگی گزار نا چھوڑ دیں جبکہ سری لنکا جیسے عبرتناک حالات کو مد نظر رکھناچاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.