بڑھتے ٹریفک حادثات

بڑھتے ٹریفک حادثات

وادی میں روز ٹریفک حادثات کے دوران جانی ومالی نقصا ن ہو رہا ہے اور اس طرح امن وخوشحالی کے باوجود بیشتر گھرانوں میں ماتم چھایا رہتا ہے ۔

ان ٹریفک حادثات کے پیچھے کون سے محرکات کارفر ما ہیں، ان پر غور کرنے کی بے حدضرورت ہے ۔غیر میعاری ڈھنگ سے گاڑیاں چلانا ،تیز رفتاری سے موٹر سائیکلوں پر اسٹنڈ(کرتبازی) کرنا اور فلمی انداز میں گاڑیاں چلانا، بنیادی وجوہات مانے جاتے ہیں ۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ وادی میں ٹریفک کا دباﺅ روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور سڑکیں وہیںکی وہیں ہیں، جو 30برس قبل تھیں ۔

جموں وکشمیر سرکار اگرچہ قومی سڑکوں کو بہتر بنانے میں پوری طرح لگی ہوئی ہے۔ تاہم شہر اور قصبہ جات میں سڑکوں کی کشادگی کیلئے کوئی منصوبہ نہیں عملایا جارہاہے ۔

یہاں یہ باتیں بھی مشاہدے میں آرہی ہیں کہ جو بھی بچے میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہیں، وہ والدین کو موٹر سائیکل خریدنے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں ہر روز میٹرک پاس کر کے کوچنگ سنٹروں کی جانب رُخ کرنا پڑتا ہے۔

اکثر کوچنگ سنٹروں کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں بچے موٹر سائیکلوں پر مستیاں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور مذہبی تہواروں اور چھٹیوں کے ایام میں یہ کمسن بچے اپنے دوستوں کے ہمراہ مختلف صحت افزاءمقامات پر جاکر راستے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی غرض سے تیز رفتاری سے گاڑیا ں یا موٹر سائیکل چلاتے ہیں جس وجہ سے بہت زیادہ حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

یہاں یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ ان بچوں میں زیادہ تر مختلف ڈرگ لینے کے عادی ہو چکے ہیں، جو ڈرگ لے کر اس قدر تیز رفتاری سے گاڑیا ں چلاتے ہیں کہ راہ چلتے مسافر دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ٹریفک حکام کو چاہیے کہ وہ موٹرسائیکلوں پر سوار نوجوانوں اور تیز رفتاری سے گاڑیا ں چلانے والوں کےخلاف نہ صرف کارروائیا ں کریں بلکہ ان لوگوں کا آن سپارٹ ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ کون شراب یا اور ڈرگ پی کر گاڑی یاموٹر سائیکل چلاتا ہے۔ یہی ایک راستہ ہے کہ ان ٹریفک حادثات پر روک لگ سکے کیونکہ والدین بھی اب اپنے بچوں کو قابو کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.