قدرتی آفات اور حادثات۔۔۔

قدرتی آفات اور حادثات۔۔۔

تحریر:شوکت ساحل

قدرتی آفات اور حادثات رونما ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے اور ہر قوم اپنے وسائل اور منصوبہ بندی کے مطابق ان آفات اور حادثات سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ حادثات سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے اور نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کرنے والی اقوام میں جاپان کا شمار صف اول کی اقوام میں ہوتاہے۔

جاپان نے آفات اور حاثادت سے نمٹنے کے لئے جس طرح جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے اور اپنی منصوبہ بندی کے ذریعے پوری دنیا میں اپنے آپ کو منوایا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔

پانی میں گھرے ہوئے اس ملک میں زلزلے،سیلاب ،سونامی وغیرہ آنا معمول کی بات ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ”ڈیزاسٹر “جاپان میں کلچر کی طرح ہے۔

شاید اسی لئے جاپانیوں نے ہمیشہ منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے مسائل پر قابو پانے کے لئے انتھک کوششیں جاری رکھی ہیں اور ہر وقت اپنے آپ کو آنے والی آفات سے نمٹنے کے لئے تیار رکھا ہوا ہے۔

جاپان میں حادثات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے سرکاری ٹی وی( این ایچ کے ) کا ایک کلیدی کردار ہے۔

قدرتی آفات کی روک تھام کے لئے (این ایچ کے ) ٹی وی اور محکمہ موسمیات جاپان کا کردار بنیادی اور تاریخی ہے۔زلزلے ،سیلاب اور سونامی کے بارے میں پیشگی آگاہی اور نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی اور امدادی کارروائیوں میں دونوں سرکاری ادارے (این ایچ کے )اورجاپان میٹورولوجیکل ایجنسی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اپنے عوام کو جانی ومالی نقصانات سے نمٹنے کے لئے بھرپور انداز میں تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جس سے تباہی اور نقصانات میں کمی لائی جاتی ہے۔ہندوستان میں کئی ایسی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ہیں ،جہاں قدرتی آفات آنا ایک معمول کی بات ہے ۔

اترا کھنڈ ،آسام ، ہماچل پردیش ،مغربی بنگال ،بہار اور جموں وکشمیر ملک کے وہ حصے ،ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ہیں ،جہاں قدرتی آفات اور حادثات کسی بھی روپ اور رنگ میں آسکتے ہیں ،جن میں سیلاب ،زلزلہ اورلینڈ سلائڈنگ قابل ذکر ہے ۔

بھارت نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے قومی پالیسی ترتیب دی ہے ،جس کے تحت فنڈس کو مختص رکھا جارہا ہے جبکہ خصوصی اسکارڈ بھی تشکیل دیئے گئے ہیں ،جو فوج کیساتھ مل کر کسی بھی قدرتی آفت کے دوران نقصانات کو روکنے کے لئے اپنی خد مات انجام دیتے ہیں ۔

گوکہ حکومت ہند کی اس پالیسی کا اطلاق جموں وکشمیر میں بھی ہوتا ہے ۔تاہم اس کے باوجود یہاں قدرتی آفات رونما ہوتے ہیں اور بھاری جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اس کی ایک تازہ مثال 8جولائی کو امرناتھ گپھا کے قریب پیش آئے واقعہ سے خوب ملتی ہے ،جہاں 15انسانی جانیں تلف ہوئیں ۔

ایسے واقعات کو روکنے کے لئے قومی پالیسی کی صحیح منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔بروقت موسمی پیش گوئی ،کارروائی اور فطرت کو انسانی مداخلت سے محفوظ رکھنے سے ہی قدرتی آفات سے ہونے والی انسانی جانوں کے اتلاف اور نقصانات کو بچایا جاسکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.