مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلی

مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلی

جموں وکشمیر جو مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کیلئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی کے مانند تھا اور گزشتہ 7دہائیوں سے اس کے نام پر سیاست کرتے رہے اور عام لوگوں کو جان بوجھ کر غافل بناتے رہے ،اس طرح وہ اپنے دوست واحباب کیلئے مال وجائیدادیں جمع کرتے رہے اور عام لوگوں کو مسائل ومشکلات برداشت کرنے پڑتے تھے ۔

گزشتہ 3برسوں سے جموں وکشمیر جو اب مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے، میں کئی شعبے ترقی کے منازل طے کرتے رہے ۔

اگر ہم جائزہ لیں تو صرف تعلیم کے شعبے میں لگ بھگ 50نئے کالج تعمیر کئے گئے اور کئی یونیورسیٹیاں عمل میں لائی گئیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں غریب اور متوسطہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے بغیر کسی رکاوٹ کے اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔

ان بچوں کو مرکزی سرکار کی جانب سے باضابطہ سکالر شپ ملتی ہے ۔دیکھا جائے پہلے ایام میں یہ سکالر شپ صرف امیر اور اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں کے بچوں کو ملتی تھی اس طرح وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے تھے اور مختلف سرکاری وغیر سرکاری عہدوں پر قبضہ کرتے تھے ۔

اس کے برعکس آج ایسے غریب والدین کے بچے بڑے بڑے عہدوں پر برا جماں ہیں، جو مشکل سے اپنی روزی روٹی کماتے تھے ۔

جہاں تک مختلف مرکزی اسکیموں کا تعلق ہے، ان کے بارے میں جموں وکشمیر کے عام انسان کو کوئی خبر نہیں ہوتی تھی ۔

آج سب کچھ آن لائن ہے جس کی وجہ سے رشوت ستانی میں بھی کافی کمی آئی ہے اور مقررہ وقت کے اندر اندر لوگوں کے کام بھی ہوجاتے ہیں ۔کسان ہو یا ملازم سب خوش ہیں ۔

بجلی نظام کا جہاں تک تعلق ہے کسی حد تک اس میں بھی بہتری آچکی ہے ۔پہلے ایام میں اگر بجلی ٹرانسفارمر خراب ہو جاتا تھا ،تومہینوں تک ٹرانسفارمر نہیں آتا تھا ،لوگوں کو پیسہ جمع کر کے متعلقہ محکمے کے افسران اور اہلکاروں کو دینے پڑتے تھے، آج بجلی ٹرانسفارمرکی خرابی ہو جائے تو 24گھنٹوں میں ٹرانسفارمر آجاتا ہے ۔

غرض زمینی سطح پر بے شمار تبدیلیاں آچکی ہیں، اگر اسی طرح مرکزی حکومت کی نگرانی میں جموں وکشمیر انتظامیہ کی بھاگ دوڑ رہی تو مزید بہتری آئے گی جو کہ عوا م کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کیونکہ ابھی بھی بہت سارے شعبے متاثر ہیں، جن کو ٹھیک کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.