غر قِ آبی کا قہر ۔۔۔۔

غر قِ آبی کا قہر ۔۔۔۔

تحریر:شوکت ساحل

وادی کشمیر میں غر قِ آبی کے بڑھتے تشویشناک واقعات نے اہلیان وادی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ہر روز کہیں نہ کہیں ایسا واقعہ پیش آتا ہے اور انسانی جان تلف ہوتی ہے ۔

وادی کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں سے غر قِ آبی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو ملا ۔رواں برس اب تک کم ازکم 20نوجوان غر قِ آب ہوئے ۔

سرحدی ضلع کپوارہ کے ویلگام میں یوم ِ عید کے دوران اُس وقت صف ماتم بچھ گئی ،جب تین نوجوان نہانے کے دوران غر قِ آب ہوئے ۔

خوش قسمتی سے دو نوجوان اس واقعہ میں محفوظ رہے لیکن ایم بی بی ایس کا طالب علم شاہد امین اس واقعہ میں زندگی کا جنگ ہار گیا ۔

غر قِ آبی کی کئی وجوہات ہیں ،جن میں’ تیر نا نہیں آنا ‘ بنیادی اور بڑی اہم وجہ ہے جبکہ مبینہ خود کشی کی کوششیں بھی ایسے واقعات کو جنم دیتی ہیں ۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جنہیں تیرنے نہیں آتا ہے،اُنہیں ندی نالوں اور دریاﺅں میں نہانے ، کودنے اور ڈبکیاں لگانے سے احتراض کرنا چاہیے ،بلکہ اُنہیں کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے ۔

والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے لخت جگروں کو آبی ذخائر میں نہانے سے روکنے کے لئے اُن کی راہنما ئی کریں ،اُن کی راہنمائی ہی اُنہیں اپنے بچوں کو ایسے واقعات سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ندی نالوں اور دریاﺅں میں نہا نے اور ڈبکیاں لگانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے تیرنے کی تربیت حاصل کریں ۔

آج تیرنے کی بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے ،لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وادی میں ایسے ذرائع بہت کم ہیں ۔حکومت چاہیے تو وہ ایک کورس کے بطور اس کو شامل ِ

منصوبہ بندی کرسکتی ہے ۔ ڈل جھیل یا دیگر کئی آبی ذخائرمیں تیرنے کے لئے کیمپ لگائے جاسکتے ہیں ،ایسے کیمپ لگانے سے پیشہ ور تیراک پیدا ہوں گے ،جو واٹر سپورٹس میں جموں وکشمیر اور ملک کا نا م روشن کرسکتے ہیں ،کیوں کہ اولم پک جیسے عالمی ایونٹ میں تیر اکی (سوئمنگ ) کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں جنکی ایک لمبی تاریخ ہے ۔

سرینگر کے تنکی پورہ علاقے میں وادی کا پہلا نجی سوئمنگ پول کا افتتاح کیا گیا ہے۔ سوئمنگ پول کو شروع کرنے والے عمران مجید شاہ کا کہنا ہے کہ’متوسط طبقے کے لیے سوئمنگ پول دستاب نہیں تھا، اس لیے انہوں نے مناسب شرح پر متوسط طبقہ کے لیے نجی پول کو شروع کیا ہے۔

‘دریا جہلم کے کنارے کے واقع ایک عمارت کی چھت پر بنا یہ سوئمنگ پول نہ صرف شائقین کو تیراکی کرنے کا موقع فراہم کرنے والا ہے، بلکہ وادی کے دل فریب مناظر سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرے گا، جہاں صارفین کو مناسب شرح پر سوئمنگ پول کی خدمات سمیت دیگر خدمات ملیں گی۔

عمران مجید کا مزید کہنا ہے کہ ’اس پول میں گرم اور سرد پانی ہوگا۔ یہ سہولیات خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ ہوں گی۔‘یہ ایک ایسے کوشش ہے کہ کیوں کہ انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے عمران مجید نے یہ پہل کی ہے ۔

اگر حکومتی سطح پر ایسے آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کی جائے ،تو نتائج اچھے نکل آسکتے ہیں ،مثبت سرگرمیوں سے منفی سرگرمیوں کو روکا جاسکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.