مذہب کا معاملہ ہے

مذہب کا معاملہ ہے

دیکھا دیکھی اور دولت نے ہم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ۔شہر ودیہات میں قربانی کے بے شمار جانور زبح کئے گئے اور اسطرح لاکھوں کوئنٹل گوشت تقسیم کیا گیا اور لوگوں نے خوب کھا کر بیمار ہونے کو دعوت دی ۔

قربانی کرنا اور اس کا گوشت تقسیم کرنا یا اس گوشت کو عزت واحترام کےساتھ قبول کرنا ایک مذہبی فریضہ ہے ،اس پر ہم کوئی بات نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ بات کرنے پر حکم کفر صادر ہو سکتا ہے جو ہم ہرگز برداشت نہیں کر سکتے ہیں ۔

جہاں تک اس قربانی کے گوشت ،جانوروں کے خون اور کھالوں کا تعلق ہے، اسکی بہت زیادہ بے قدری اور بے حرمتی کی جاتی ہے ۔

سڑکوں پر جانوروں کی کھالیں ،سر اور انتڑیاں وغیرہ پائی گئیںاور اسکی ویڈیوزسوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئیں ۔ایک زمانے میں قربانی کے جانور کو اپنے اولادوں سے زیادہ پیا ر کیا جاتا تھا، اُن کے خون ،گوشت اور دیگر عضاءکو بڑے احترام وعزت سے دفن کیا جاتا تھا ۔

آج لوگوں کو اس حوالے سے کوئی فکر نہیں کیونکہ دولت اس قدر زیادہ ہو گئی ہے، کہ ہر گھر میں قربانی ہو رہی ہے اور دیکھا دیکھی کی آڑ میں مذہبی فریضہ کو بھاڑ میں دھکیل دیا جاتا ہے اور افسوس کے سواءکچھ بھی نہیں کرتے ہیں کیونکہ مذہب کا معاملہ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.