ہم مجبور ہں

ہم مجبور ہں

امرناتھ یاتریوں کا پہلا جھتہ کیا وادی میں داخل ہو گیا ،سرکاری وغیر سرکاری سطح پر اُسکا پُرتپاک استقبال کیا گیا ۔آج پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ہوٹل سنتور میں وقف بورڈ سے وابستہ علماءاور اہلکاروں کو جمع کیا گیا اور ایل جی صاحب نے اُن سے خطاب کرتے ہوئے قومی ترانہ گایا اور اسطرح یاتریوں کا استقبال کیا ۔

جہاں تک مجھے علم ہے یاترا صدیوں سے چلتی ہے اور چلتی رہے گی ،یہاں آرہے یاتریوں کو ہمیشہ یہاں کی مسلم برادری نہایت ہی پیار ومحبت سے پیش آتی ہے اور اُن کی مدد یاترا کے دورا ن کرتے تھے ،سڑکوں پر لنگر لگاتے تھے اور شربت وغیرہ کا اہتمام کرتے تھے ،آج سرکاری سطح پر اس طرح کی محفلیں کیوں سجائی جاتی ہیں، اسکے پیچھے کون سے محرکات ہیں، میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔

لسہ کاک جہلم کے کنارے سلہ کا ک کو یہ کہہ رہا ہے کہ آخر اس وادی میں کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ کس کیلئے ہورہا ہے ؟سمجھ سے بالاتر ہے ۔

جہاں تک سنتور میں شرکت کرنے والے علماءو سیول سوسائٹی سے وابستہ افراد کا تعلق ہے، وہ باہر کہہ رہے ہیں کہ ہم مجبور ہیں آخر کیوں ؟اسکا جواب ملناچاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.