بہتری کیلئے سخت اقدامات لازمی

بہتری کیلئے سخت اقدامات لازمی

جموں وکشمیر کو مرکزی زیر انتظام علاقہ بنانے کے پیچھے جو مقاصد کار فرما تھے، اُ ن میں ایک بہت بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ جموںوکشمیر خاصکر وادی میں بد انتظامی کو ٹھیک کرنا تھا ۔مرکزی حکومت کو بار بار یہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ یہاں کے سرکاری دفتروں میں بہتر ڈھنگ سے صاف وشفاف طریقے سے کام نہیں ہو رہا ہے ،رشوت کے بغیر پتہ بھی نہیں چل رہا ہے ۔اثر ورسوخ کی بنیاد پر جائزناجائز سب کچھ ممکن ہوتا ہے اور اسطرح انتظامی بدنظمی یہاں امن کو درہم برہم کرنے میں ایک اہم عنصر تصور کیا جا رہا تھا ،اب لگ بھگ 30مہینے ہو چکے ہیں کہ یہاں کی انتظامی کی لگام براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے ہاتھوں میں ہے اور ہر محاذ راست مرکزی وزارت داخلہ کے ہاتھوں میںہے اور ہر محاذ پر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ تمام دفتروں میں انتظامی نظام بہتر بن سکے ۔مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دفتروں میں بیشتر افسران اور ملازمین اُسی سوچ وذہن کے ہیں، جو برسوں پہلے انہوں نے تسلیم کیا ہے یعنی اثر ورسوخ ،رشوت ستانی اور دفتری طوالت ،تعلیمی اداروں کا جہاں تک تعلق ہے، یہاں ایسے اساتذہ تعینات ہیں ،جو ہرگز بچوں کو بہتر ڈھنگ سے تعلیم وتربیت دینا نہیں چاہتے ہیں۔ انہیں بھی انجینئر وں اور ڈاکٹروں کی طرح ہی زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی لت لگی ہے ۔ہزاروں کی تعداد میں سرکاری ملازمین ہیں جو زیادہ تر وقت اپنے نجی کاروبار کو فروغ دینے میں گزار تے ہیں ۔جہاں تک مختلف سرکاری ونجی اداروں کا تعلق ہے، اُن کے سربراہان کروڑ پتی بن کر ملازمتوں سے سبکدوش بھی ہو چکے ہیں لیکن جس تباہی کی دلدل میں انہوں نے ان اداروں کو دھکیل دیا تھا آج بھی انہیں باہر نکالنے میں مشکلات درپیش آرہی ہیں ۔سرکار نے این آئی اے اور دیگر احتسابی ادارے تو بنا ڈالیں لیکن ان اداروں کو بھی سیاست زدہ کر دیا گیا ۔آج تک کسی بھی ایسے بڑے سرکاری آفسر کو گرفتار نہیں کیا گیا جس کے پاس اربوں کی جائیدادیں موجود ہیں۔ ایسے لوگ آج بھی سرکار اور انتظامیہ کے چہیتے تصور کئے جا رہے ہیں ۔اُس وقت تک نوجوان طبقے کا اعتماد بحال ہونا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے جب تک نہ ایسے لوگوں کو جیل بھر دیا جائے اور اُن سے لوٹی ہوئی سرکاری دولت واپس حاصل کی جائے، جنہوں نے نظامِ حکومت کو تتر بتر کر کے یہاں فتنہ اور فساد کو پھیلا دیا چاہے وہ کوئی اثر ورسوخ والا ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ بہترنظام قائم کرنے کیلئے کچھ سخت اقدامات اُٹھانے ہی پڑتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.