جہلم کے کنارے کبھی ہنگامہ یا احتجاج نظر نہیں آرہا تھا ،لیکن چند دنوں سے اچانک اس جہلم کے کنارے بھی سرخیوں میں رہے۔ یہاں موجود ہاﺅس بوٹ مالکان کو سرکار جہلم خالی کرنے کیلئے کہتی ہے اور یہ لوگ روزاحتجاج اور نعرہ بازی کرتے ہیں ۔ما ئسمہ ،ڈبجی گاٹ ،راجباغ اور ا میرا کدل میں جہلم کے کناروں پر یہ لوگ روز کوئی نہ کوئی احتجاج کرتے ہیں ۔سرکار جہلم کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کیلئے ان لوگوں کو ہٹانا چاہتی ہے اور جہلم کے کناروں کو سجانے سنوارنے کیلئے کوشاں ہے، تاکہ باہر سے آرہے سیاح جہلم کے ان کناروں سے لطف اندوز ہو سکے ۔ہمیں بھائی کوئی اعتراض نہیں سرکار کا قدم اچھا ہے، اسے نہ صرف جہلم کی رونق وخوبصورتی بہتر ہو گی بلکہ سماٹ سٹی پروجیکٹ کو اہمیت وافادیت ملے گی کیونکہ یہ معاملہ اس اہم پروجیکٹ کا حصہ ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا سرکار ان لوگوں کی باز آبادکاری کا کوئی منصوبہ بھی عملا رہی ہے یا نہیں ؟ ۔یہ لوگ دہائیوں سے اسی جہلم کے کناروں پررہ رہے ہیں اور اب اگر ان کو پانی سے باہر نکال کر سرراہ شدت کی سردی میں چھوڑ دیا جائیگا تو یہ سراسر ناانصافی ہو گی ۔لہٰذا ان کی باز آباد کاری کیلئے بھی منصوبہ ہاتھ میں لینا چاہیے تاکہ جہلم بھی محفوظ رہے اور جہلم میں رہ رہے لوگ بھی ۔





